Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاز بھی پانی پر اسی طرح تیر سکتے ہیں، جس طرح لکڑی کے جہاز سطح بحر پر چلتے ہیں تو اس بنا پر اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ لوہا وزنی ہونے کی وجہ سے پانی کی سطح پر تیر ہی نہیں سکتا۔ کسی لوہار نے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لیے پانی کے ٹب میں لوہے کا نعل ڈال کر دکھادیا کہ وہ پانی کی سطح پر تیرنے کے بجائے ٹب کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے ۔ بظاہر یہ ایک تجربہ تھا، مگر یہ تجربہ صحیح نہیں تھا۔ کیوں کہ اس نے اگر پانی میں نعل کے بجائے لوہے کا تسلہ ڈالا ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ دعویٰ کرنے والے کا دعویٰ صحیح ہے۔ اسی طرح ابتداء میں جب کم طاقت کی دوربینوں سے آسمان کا مشاہدہ کیا گیا تو بہت سے ایسے اجسام مشاہدے میں آئے جو پھیلے ہوئے نور کی مانند دکھائی دے رہے تھے۔ اس مشاہدہ کی بنا پر یہ نظریہ قائم کر لیا گیا کہ یہ گیسی بادل ہیں، جو ستارے بننے پہلے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ مگر جب مزید طاقت کی دوربینیں تیار ہوئیں اور ان کے ذریعہ از سرِ نو ان اجسام کو دیکھا گیا تو نظر آیا کہ جو چیز پہلے نورانی بادل کی شکل میں دکھائی دیتی تھی، وہ دراصل بے شمار ستاروں کا مجموعہ تھا، جو غیر معمولی دوری کی وجہ سے بادل کی مانند نظر آرہا تھا۔ معلوم ہوا کہ مشاہدہ اور تجربہ نہ صرف یہ کہ بذات خود علم کے قطعی ذرائع نہیں ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ علم صرف ان چیزوں کا نام نہیں ہے جو براہِ راست ہمارے مشاہدہ و تجربہ میں آتی ہوں۔ دورِ جدید نے بیشک بہت سے آلات اور ذرائع دریافت کر لیے ہیں، جن سے وسیع پیمانے پر تجربہ و مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ آلات و ذرائع جن چیزوں کا ہمیں تجربہ کراتے ہیں، وہ صرف کچھ اوپری اور نسبتاً غیر اہم چیزیں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ان مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر جو نظریات قائم کیے جاتے ہیں، وہ سب کے سب غیر مرئی ہوتے ہیں۔ نظریات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ساری سائنس کچھ مشاہدات کی توجیہ کا نام ہے، یعنی خود نظریات وہ چیزیں نہیں ہیں، جو ہمارے مشاہدہ یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page