Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

تجربے میں آئے ہوں ۔ بلکہ کچھ تجربات ومشاہدات نے سائنس دانوں کو یہ ماننے پر مجبور کیا ہے کہ یہاں فلاں حقیقت موجود ہے ۔ اگر چہ وہ خود مشاہدہ میں نہیں آئی ، کوئی سائنس داں یا مادہ پرست فورس ، انرجی ، نیچر ، قانون فطرت ، وغیرہ الفاظ استعمال کیے بغیر ایک قدم آگے نہیں چل سکتا ۔ مگر کوئی بھی سائنس داں نہیں جانتا کہ قوت یا نیچر کیا ہے ۔ سوا اس کے معلوم واقعات و ظواہر کی نامعلوم اور نا قابل مشاہدہ علت کے لیے چند تعبیری الفاظ وضع کر لیے گئے ہیں ، جن کی حقیقت معنوی کی تشریح سے ایک سائنس داں بھی اسی طرح عاجز ہے ، جس طرح اہل مذاہب خدا کی تشریح وتوصیف سے ۔ دونوں اپنی جگہ ایک نامعلوم علت کائنات پر غیبی اعتقاد رکھتے ہیں ، ڈاکٹر الکسس کیرل کے الفاظ میں : ” ریاضیاتی کائنات قیاسات اور مفروضات کا ایک شاندار جال ہے ، جس میں علامتوں کی مساوات (equation of symbols) پر مشتمل ناقابل بیان مجردات (abstractions) کے سوا اور کچھ نہیں ۔‘‘ Man the Unknown, p. 15 سائنس ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرتی اور نہیں کر سکتی کہ حقیقت صرف اسی قدر ہے ، جو اس کے ذریعہ بلاواسطہ ہمارے تجربہ میں آئی ہو ۔ یہ واقعہ کہ پانی ایک رقیق اور سیال چیز ہے ، اس کو ہم براہِ راست اپنی آنکھوں کے ذریعہ دیکھ لیتے ہیں ، مگر یہ واقعہ کہ پانی کا ہر مالے کیوں ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم پر مشتمل ہے ، یہ ہم کو آنکھ سے یا کسی خوردبین سے نظر نہیں آتا ، بلکہ صرف منطقی استنباط کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے ، اور سائنس ان دونوں واقعات کی موجودگی یکساں طور پر تسلیم کرتی ہے ، اس کے نزدیک جس طرح وہ عام پانی ایک حقیقت ہے ، جو مشاہدہ میں نظر آ رہا ہے ، اسی طرح وہ تجزیاتی پانی بھی ایک حقیقت ہے ، جو قطعاً ناقابل مشاہدہ ہے ، اور صرف قیاس کے ذریعہ معلوم کیا گیا ہے ۔ یہی حال دوسرے تمام حقائق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page