استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کا ہے۔ اے ۔ای مینڈر(Alfred Ernest Mander, 1894-1985) لکھتا ہے: ’’ جو حقیقتیں (facts) ہم کو براہِ راست حواس کے ذریعہ معلوم ہوں، وہ محسوس حقائق (perceived facts) ہیں، مگر جن حقیقتوں کو ہم جان سکتے ہیں، وہ صرف انھیں محسوس حقائق تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سے حقیقتیں ہیں جن کا علم اگرچہ براہِ راست ہم حاصل نہیں کر سکتے۔ پھر بھی ہم ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اس علم کا ذریعہ استنباط ہے۔ اس طرح جو حقیقتیں معلوم ہوں، ان کو استنباطی حقائق (inferred facts) کہا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات اہمیت کے ساتھ سمجھ لینے کی ہے کہ دونوں میں اصل فرق ان کے حقیقت ہونے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ ایک صورت میں ہم ’’اس کو‘‘ جانتے ہیں، اور دوسری صورت میں ’’اس کے بارے میں‘‘ معلوم کرتے ہیں۔ حقیقت بہ حال حقیقت ہے، خواہ ہم اس کو براہِ راست مشاہدہ سے جانیں یا بہ طریقہ استنباط معلوم کریں۔‘‘ Clearer Thinking, London, 1949, p. 46 وہ مزید لکھتا ہے: ’’کائنات میں جو حقیقتیں ہیں، ان میں سے نسبتاً تھوڑی تعداد کو ہم حواس کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں، پھر ان کے علاوہ جو اور چیزیں ہیں، ان کو ہم کیسے جانیں، اس کا ذریعہ استنباط (inference) یا تعقل(reasoning) ہے۔ استنباط یا تعقل ایک طریق فکر ہے، جس کے ذریعہ سے ہم کچھ معلوم واقعات سے آغاز کر کے بالآخر یہ عقیدہ بناتے ہیں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے، اگرچہ وہ کبھی دیکھی نہیں گئی ۔‘‘ (ایضاً صفحہ 49)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader