Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقلی اور منطقی طریقہ حقیقت کو معلوم کرنے کا ذریعہ کیوں کرہے، جس چیز کو ہم نے آنکھ سے نہیں دیکھا اور نہ کبھی اس کے وجود کا تجزیہ کیا، اس کے متعلق محض عقلی تقاضے کی بنا پر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ حقیقت ہے، مینڈر کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے : "The reasoning process is valid because the universe of fact is rational." (Clearer Thinking, p. 50) یعنی منطقی استدلال کے ذریعہ حقیقت کو معلوم کرنے کا طریقہ صحیح ہے۔ کیوں کہ حقائق کی دنیا عقلی دنیا ہے۔ عالم واقعات ایک ہم آہنگ کل ہے، کائنات کے تمام حقائق ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں، اور ان کے درمیان زبردست نظم اور با قاعدگی پائی جاتی ہے ۔ اس لیے مطالعہ کا کوئی ایسا طریقہ جو واقعات کی ہم آہنگی اور ان کی موزونیت کو ہم پر واضح نہ کرے، صحیح نہیں ہو سکتا۔ مینڈر یہ بتاتے ہوئے لکھتا ہے : "نظر آنے والے واقعات محض عالم حقیقت کے کچھ اجزاء (patches of fact) ہیں، وہ سب کچھ جن کو ہم حواس کے ذریعہ جانتے ہیں، وہ محض جزئی اور غیر مربوط واقعات ہوتے ہیں ، اگر الگ سے صرف انھیں کو دیکھا جائے تو وہ بے معنی معلوم ہوں گے ۔ براہ راست محسوس ہونے والے واقعات کے ساتھ اور بہت سے غیر محسوس واقعات کو ملا کر جب ہم دیکھتے ہیں، اس وقت ہم ان کی معنویت کو سمجھتے ہیں ۔ " (صفحہ (51) اس کے بعد وہ ایک سادہ سی مثال سے اس حقیقت کو سمجھاتا ہے : "ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چڑیا مرتی ہے تو زمین پر گر پڑتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ ایک پتھر کو زمین سے اٹھانے کے لیے طاقت خرچ کرنی ہوتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ چاند آسمان میں گھوم رہا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ پہاڑی سے اترنے کے مقابلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page