Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

میں چڑھنا زیادہ مشکل ہے، اس طرح کے ہزاروں مشاہدات ہمارے سامنے آتے ہیں جن کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نہیں، اس کے بعد ایک استنباطی حقیقت (inferred facts) انکشاف ہوتا ہے یعنی تجاذب (gravitation) کا قانون، اس کے فوراً بعد ہمارے یہ تمام مشاہدات اس استنباطی حقیقت کے ساتھ مل کر باہم مربوط ہو جاتے ہیں، اور اس طرح بالکل پہلی بار ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان مختلف واقعات کے درمیان نظم، باقاعدگی اور موافقت ہے۔ محسوس واقعات کو اگر الگ سے دیکھا جائے تو وہ بے ترتیب، غیر مربوط اور متفرق معلوم ہوں گے، مگر محسوس واقعات اور استنباطی حقائق دونوں کو ملا دیا جائے تو وہ ایک منظم شکل اختیار کر لیتے ہیں“۔ (صفحہ 51) اس مثال میں تجاذب کا قانون (law of gravitation) ایک تسلیم شدہ سائنسی حقیقت ہونے کے باوجود بذات خود قطعاً نا قابل مشاہدہ ہے، سائنس دانوں نے جس چیز کو دیکھا یا تجربہ کیا وہ خود قانونِ کشش نہیں، کچھ دوسری چیزیں ہیں، اور ان دوسری چیزوں کو منطقی توجیہ کے طور پر وہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی چیز موجود ہے، جس کو ہم قانون تجاذب سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ قانون تجاذب آج ایک مشہور ترین سائنسی حقیقت کے طور پر ساری دنیا میں جانا جاتا ہے، اس کو پہلی بار نیوٹن نے دریافت کیا، مگر خالص تجرباتی نقطۂ نظر سے اس کی حقیقت کیا ہے، اس کو نیوٹن کی زبان سے سنیے، اس نے بنکلی کو ایک خط لکھا تھا، جو اس کے مجموعے میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ”یہ ناقابل فہم ہے کہ بے جان اور بے حس مادہ کسی درمیانی واسطہ کے بغیر دوسرے مادہ پر اثر ڈالتا ہے، حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوتا۔“ Works of W. Bently III, P.221

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page