استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ایسی نا قابل مشاہدہ اور نا قابل فہم چیز کو آج بلا اختلاف سائنسی حقائق سمجھا جاتا ہے، کیوں، صرف اس لیے کہ اگر ہم ان کو مان لیں تو ہمارے کچھ مشاہدات کی اس سے توجیہ ہو جاتی ، گویا کسی چیز کے حقیقت ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی واقعیت براہ راست ہمارے تجربے اور مشاہدے میں آرہی ہو، بلکہ وہ غیر مرئی عقیدہ بھی اسی درجہ کی ایک حقیقت ہے، جس سے ہم مختلف مشاہدات کو اپنے ذہن میں مربوط کر سکتے ہوں، جو معلوم واقعات کی معنویت ہم پر واضح کر سکے، مینڑ رکھتا ہے: ” یہ کہنا کہ ہم نے ایک حقیقت کو معلوم کر لیا ہے، دوسرے لفظوں میں گویا یہ کہنا ہے کہ ہم نے اس کی معنویت (meaning) کو معلوم کر لیا ہے، یا اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم کسی چیز کی موجودگی کے سبب اور اس کے حالات کو معلوم کر کے اس کی تشریح کرتے ہیں، ہماری بیشتر یقینیات (beliefs) اسی نوعیت کی ہیں، وہ دراصل مشاہدات کی توضیح (Statements of Observation) ہیں ۔“ Clearer Thinking, p. 52 اس بحث کے بعد مینڑ مشہور حقائق (Observed Facts) کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”جب ہم کسی مشاہدے (Observation) کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیشہ ہم مجرد حسیاتی مشاہدے سے کچھ زیادہ مراد لیتے ہیں، اس سے مراد حسّیاتی مشاہدہ نیز معرفت (Recognition) ہوتا ہے، جس میں تعبیر کا جز بھی شامل ہو۔“ (صفحہ 56) یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد پر عضویاتی ارتقا (Organic Evolution) کے حقیقت ہونے پر سائنس دانوں کا اجماع ہو گیا ہے، مینڑ کے نزدیک یہ نظریہ اب اتنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader