Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

دلائل سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کو تقریباً حقیقت (Approximate Certainty) کہا جا سکتا ہے‘۔ Clearer Thinking, p. 113 سمپسن (G.G. Simpson) کے الفاظ میں نظریہ ارتقا آخری اور مکمل طور پر ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، نہ کہ محض ایک قیاس یا متبادل مفروضہ جو سائنس کی تحقیق کے لیے قائم کر لیا گیا ہو‘ Meaning of Evolution, p. 127 انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1958ء) کے مقالہ نگار نے حیوانات میں ارتقا کو بطور ایک حقیقت (truth) تسلیم کیا ہے، اور کہا ہے کہ ڈارون کے بعد اس نظریے کو سائنس دانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کا قبول عام (general acceptance) حاصل ہو چکا ہے۔ رچرڈ لول لکھتا ہے: (Richard Swann Lull, 1867-1957) ”ڈارون کے بعد نظریہ ارتقا دن بدن زیادہ مقبولیت حاصل کرتا رہا ہے، یہاں تک کہ اب سوچنے اور جاننے والے لوگوں میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ یہ واحد منطقی طریقہ ہے، جس کے تحت عمل تخلیق کی توجیہ ہو سکتی ہے، اور اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔“ Organic Evolution, p.15 یہ نظریہ جس کی صداقت پر سائنس دانوں کا اس قدر اتفاق ہو گیا ہے۔ کیا اسے کسی نے دیکھا ہے، یا اس کا تجربہ کیا ہے—ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ارتقا کا مزعومہ عمل اتنا پیچیدہ ہے، اور اتنے بعید ترین ماضی سے متعلق ہے، جس کو دیکھنے یا تجربہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لول (Lull) کے مذکورہ بالا الفاظ کے مطابق یہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page