استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
منطقی طریقہ ہے، جس سے تخلیقی مظاہر کی توجیہ کی جاتی ہے، نہ کہ تخلیق کے واقعہ کا مشاہدہ چنانچہ سر آرتھر کیتھ جو خود بھی ارتقا کا حامی ہے، اس نے ارتقا کو مشاہداتی یا تجرباتی حقیقت کے بجائے ایک عقیدہ قرار دیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: Evolution is a basic dogma of rationalism Revolt Against Reason, p.112 یعنی نظریہ ارتقا مذہب عقلیت کا ایک بنیادی عقیدہ ہے، چنانچہ ایک سائنسی انسائیکلو پیڈیا میں ڈارونزم کو ایک ایسا نظریہ کہا گیا ہے، جس کی بنیاد توجیہ بلا مشاہدہ (explanation without demonstration) پر قائم ہے۔ Revolt against Reason, p. 111 پھر ایک ایسی غیر مشاہد اور ناقابل تجربہ چیز کو علمی حقیقت کیوں سمجھا جاتا ہے، اس کی وجہ اے، ای مینڈر کے الفاظ میں یہ ہے: 1۔ یہ نظریہ تمام معلوم حقیقتوں سے ہم آہنگ (consistent) ہے۔ 2۔ اس نظریے میں ان بہت سے واقعات کی توجیہ مل جاتی ہے، جو اس کے بغیر سمجھے نہیں جاسکتے۔ 3۔ دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ Clearer Thinking, p. 112 اگر یہ استدلال نظریہ ارتقا کو حقیقت قرار دینے کے لیے کافی ہے تو یہی استدلال بدر جہاں زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کے حق میں موجود ہے۔ ایسی حالت میں نظریہ ارتقا کو سائنسی حقیقت قرار دینا، اور مذہب کو سائنسی ذہن کے لیے ناقابل قبول ٹھہرانا صرف اس بات کا مظاہرہ ہے کہ آپ کا مقدمہ اصلاً طریقہ استدلال کا مقدمہ نہیں ہے، بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader