استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ نتیجہ سے متعلق ہے۔ ایک ہی طریق استدلال سے اگر کوئی خالص طبیعیاتی نوعیت کا واقعہ ثابت ہو تو آپ فورا اسے قبول کر لیں گے اور اگر کوئی الہیاتی نوعیت کی چیز ثابت ہو تو آپ اسے رد کر دیں گے ، کیوں کہ یہ نتیجہ آپ کو پسند نہیں۔ اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں کہ مذہب ایمان بالغیب کا نام ہے، اور سائنس ایمان بالشہود کا۔ حقیقت یہ ہے مذہب اور سائنس دونوں ہی ایمان بالغیب پر عمل کرتے ہیں، مذہب کا اصل دائرہ اشیا کی اصلی اور آخری حقیقت متعین کرنے کا دائرہ ہے، سائنس اسی وقت تک مشاہداتی علم ہے، جب تک وہ ابتدائی اور خارجی مظاہر پر کلام کر رہی ہو، جہاں وہ اشیاء کی آخری اور حقیقی حیثیت متعین کرنے کے میدان میں آتی ہے، جو کہ مذہب کا اصلی میدان ہے، تو وہ بھی ٹھیک اسی طرح ”ایمان بالغیب“ کا طریقہ اختیار کرتی ہے، جس کا الزام مذہب کو دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس میدان میں اس کے سوا چارہ نہیں۔ بقول آرتھر ایڈنگٹن (Sir Arthur Eddington) دور جدید کا سائنس داں جس میز پر کام کر رہا ہے، وہ بیک وقت دو میزیں ہیں، ایک میز تو وہی ہے، جو عام انسان استعمال کرتا ہے، اور جس کو چھونا اور دیکھنا ممکن ہے۔ دوسری میز اس کی علمی میز (scientific table) ہے، اس کا بیشتر حصہ خلا ہے، اور اس میں بے شمار ناقابل مشاہدہ الیکٹران دوڑ رہے ہیں۔ اسی طرح ہر چیز کے مثنیٰ (duplicate) ہیں، جن میں سے ایک تو قابل مشاہدہ ہے، اور دوسرا صرف تصوراتی ہے۔ اس کو کسی بھی خوردبین یا دوربین سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ Eddington, The Nature of the Physical World. (Cambridge, The University Press 1948), p. 261. جہاں تک چیزوں کی شکل اول کا تعلق ہے، اس کو بیشک سائنس دیکھتی ہے، اور بہت دور تک دیکھتی ہے۔ مگر اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے شکل ثانی کو بھی دیکھ لیا ہے، اس میدان میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی حقیقت کے مظاہر کو دیکھ کر اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader