استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں ایک رائے قائم کرتی ہے، گویا جہاں تک اس دوسرے میدان ــــ اشیاء کی حقیقت معلوم کرنے کا میدان ــــ کا تعلق ہے، سائنس نام ہے، معلوم حقائق کی مدد سے نامعلوم حقائق کو جاننا۔ جب سائنس داں کے پاس مشاہداتی حقائق ( جن کو در حقیقت وجدان صورت پذیر کرتا ہے ) کی کچھ تعداد فراہم ہو جاتی ہے تو وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اب اسے ایک ایسے مفروضہ یا نظریہ یہ زیادہ صحیح الفاظ میں ایک وجدانی یا اعتقادی تصور کی ضرورت ہے، جوان مشاہدات کی تشریح کرے، ان کو منظم کرے اور انھیں ایک وحدت میں پرو دے ۔ لہٰذا وہ اس قسم کا ایک وجدانی مفروضہ ایجاد کرتا ہے۔ اگر یہ مفروضہ فی الواقع ان تمام حقائق کی معقول تشریح کر رہا ہو، تو وہ بھی ایک ایسی ہی قابلِ یقین حقیقت شمار کیا جاتا ہے، جیسی کہ کوئی اور علمی حقیقت جس کو سائنس داں ’’مشاہدہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت سائنس دانوں کے اپنے نقطہ نظر کے مطابق کبھی مشاہدہ میں نہ آئی ہو، مگر یہ غیر مرئی حقیقت صرف اس لیے حقیقت سمجھی جاتی ہے کہ دوسرا مفروضہ ایسا موجود نہیں ہے، جو ان مشہود حقائق کی واقعی تشریح کرتا ہو۔ گویا سائنس داں ایک غائب چیز کی موجودگی پر اس کے نتائج و اثرات کی وجہ سے یقین کر لیتا ہے، ہر وہ حقیقت جس پر یقین کرتے ہیں، شروع میں ایک مفروضہ ہی ہوتی ہے، پھر جوں جوں نئے حقائق منکشف ہو کر اس مفروضے کی تائید کرتے جاتے ہیں، اس مفروضہ کی صداقت نمایاں ہوتی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس پر ہمارا یقین، حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر ظاہر ہونے والے حقائق اس مفروضہ کی تائید نہ کریں تو ہم اس مفروضہ کو غلط سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی ناقابلِ انکار حقیقت کی ایک مثال جس پر سائنس داں ایمان بالغیب رکھتا ہے، وہ ایٹم ہے۔ ایٹم کو آج تک معروف معنوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader