Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

استدلال کا طریقہ

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھا نہیں گیا ، مگر اس کے باوجود جدید سائنس کی سب سے بڑی تسلیم شدہ حقیقت ہے ، اسی بنا پر ایک عالم نے سائنسی نظریات کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ۔ نظریات دراصل ذہنی نقشے ہیں ، جو معلوم قوانین کی توجیہ کرتے ہیں : “Theories and mental pictures that explain known laws.” سائنس کے میدان میں جن حقائق کو مشاہداتی حقائق (observed facts) کہا جاتا ہے ، وہ دراصل مشاہداتی حقائق نہیں بلکہ کچھ مشاہدات کی تعبیریں ہیں ، اور چوں کہ انسانی مشاہدہ کو کامل نہیں کہا جا سکتا ، اس لیے یہ تعبیریں بھی تمام کی تمام اضافی ہیں ، اور مشاہدہ کی ترقی سے تبدیل ہو سکتی ہیں ۔ جے ، ڈبلیو ، سولیون (John William Navin 1886-1037 ,Sullivan) سائنسی نظریات پر ایک تبصرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے : ” سائنسی نظریات کے اس جائزے سے یہ ثابت ہو جاتی ہے کہ ایک صحیح سائنسی نظریہ محض یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک کامیاب عملی مفروضہ (Successful Hypothesis) ہے ، یہ بہت ممکن ہے کہ تمام سائنسی نظریات اصلاً غلط ہوں ، جن نظریات کو آج ہم تسلیم کرتے ہیں ، وہ محض ہمارے موجودہ حدود مشاہدہ کے اعتبار سے حقیقت ہیں ، حقیقت (Truth) اب بھی سائنس کی دنیا میں ایک علمی اور افادی مسئلہ (Pragmatic Affair) ہے۔“ The Limitation of Science, p. 158 اس کے باوجود سائنس داں ایک مفروضہ کو جو اس کے مشاہداتی حقائق کی معقول تشریح کرتا ہو ، مشاہداتی حقائق سے کم درجہ کی علمی حقیقت نہیں سمجھتا ، وہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مشاہداتی حقائق تو سائنس ہیں ، لیکن وہ نظریہ جو ان کی تشریح کرتا ہے وہ سائنس نہیں ۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ۔ ایمان بالغیب مشہود حقائق سے الگ کوئی چیز نہیں ہے ۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page