استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
محض ایک اندھا عقیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ مشہود کی صحیح ترین توجیہ ہے، جس طرح نیوٹن کے نظریہ روشنی (Corpuscular Theory of Light) کو بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس لیے رد کر دیا کہ وہ مظاہر نور کی تشریح میں ناکام نظر آیا۔ اسی طرح ہم بے خدا مفکرین کے نظریہ کائنات کو اس بنا پر رد کرتے ہیں کہ وہ حیات و کائنات کے مظاہر کی تشریح میں ناکام ہے۔ مذہب کے بارے میں ہمارے یقین کا ماخذ عین وہی چیز ہے، جو ایک سائنس داں کے لیے کسی سائنسی نظریے کے بارے میں ہوتا ہے۔ ہم مشاہداتی حقائق کے مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مذہب کی تشریحات عین حق ہیں، اور اس درجہ حق ہیں کہ ہزاروں برس گزرنے کے باوجود ان کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہر وہ انسانی نظریہ جو آج سے چند سو برس پہلے بنایا گیا، وہ نئے مشاہدات و تجربات کے ظہور میں آنے کے بعد مشتبہ اور متروک ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس، مذہب ایک ایسی صداقت ہے، جو ہر نئی تحقیق سے اور نکھرتی چلی جارہی ہے، ہر واقعی دریافت اس کے لیے تصدیق بنتی چلی جاتی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم اسی پہلو سے مذہب کے بنیادی تصورات کا مطالعہ کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader