کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے باہر کوئی دنیا ہے، جس کا اپنا وجود ہے، اسی طرح ہمارا ذہن اور ہمارے تمام حواس ہر آن بے شمار چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، اور یہ علم و احساس ہر شخص کے لیے اس بات کا ایک ذاتی ثبوت ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے، جو واقعی طور پر اپنا وجود رکھتی ہے ۔ اب اگر کسی کا فلسفیانہ تفکر اس کے لیے دنیا کے وجود کو مشتبہ کر دیتا ہے، تو یہ ایک ایسی مستثنی حالت ہے جو کروڑوں انسانوں کے تجربات سے غیر متعلق ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی مخصوص قسم کی ذہنی فضا میں گم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو گیا ہے۔ اگرچہ کائنات کا موجود نہ ہونا بذاتِ خود اس بات کا کوئی لازمی ثبوت نہیں ہے کہ خدا بھی موجود نہ ہو، تاہم اپنی انتہائی لغویت کے باوجود یہی ایک نقطہ نظر ہے، جس کے لیے خدا کا وجود مشتبہ ہوسکتا ہے۔ مگر یہ نقطہ نظر خود اتنا بے معنی ہے کہ آج تک نہ تو عام انسانوں کے لیے وہ قابل فہم ہوسکا، اور نہ علمی دنیا میں اس کو قبول عام حاصل ہوا ہے۔ عام انسان اور عام اہل علم بہر حال اس واقعہ کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اپنا ایک وجود ہے، اور کائنات کا بھی اپنا وجود رکھتی ہے ۔ سارے علوم اور زندگی کی تمام سرگرمیاں اسی علم و یقین کی بنیاد پر قائم ہیں۔ پھر جب ایک کائنات ہے تو لازماً اس کا ایک خدا ہونا چاہیے ۔ یہ بالکل بے معنی بات ہے کہ ہم مخلوق کو مانیں مگر خالق کا وجود تسلیم نہ کریں۔ ہمیں کسی بھی ایسی چیز کا علم نہیں جو پیدا کیے بغیر وجود میں آگئی ہو۔ ہر چھوٹی بڑی چیز لازمی طور اپنا ایک سبب رکھتی ہے پھر اتنی بڑی کائنات کے بارے میں کیسے یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ یونہی وجود میں آگئی ، اس کا کوئی خالق نہیں ۔ جان اسٹوارت مل (1873-1806 ,John Stuart Mill) نے اپنی آٹو بیاگرافی میں لکھا ہے کہ میرے باپ ، جیمس مل (1836-1773 ,James Mill) نے مجھے یہ سبق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader