Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا کہ یہ سوال کہ کس نے مجھے پیدا کیا (who made me)، خدا کے اثبات کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد فوراَ دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے کیا (who made God) ، چنانچہ برٹرینڈ رسل نے بھی اسی اعتراض کو تسلیم کرتے محرک اول کے استدلال کو رد کر دیا ہے: The Age of Analysis by Morton White, P.21. 22. یہ منکرین خدا کا بہت پرانا استدلال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا اگر کوئی خالق مانیں تو اس خالق کو لازمی طور پر ازلی ماننا پڑے گا۔ پھر جب خدا کو ازلی ماننا ہے تو کیوں نہ کائنات ہی کو ازلی مان لی جائے اگر چہ یہ بالکل بے معنی بات ہے۔ کیوں کہ کائنات کی کوئی ایسی صفت ہمارے علم میں نہیں آئی ہے، جس کی بنا پر اس کو خود اپنا خالق فرض کیا جاسکے۔ تاہم انیسویں صدی تک منکرین کی اس دلیل میں ایک ظاہر فریب محسن ضرور موجود تھا، مگر اب حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermodynamics) کے انکشاف کے بعد تو یہ دلیل بالکل بے بنیاد ثابت ہو چکی ہے۔ یہ قانون، جسے نا کارگی کا قانون (Law of Entropy) کہا جاتا ہے، ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی ، ضابطہ نا کارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل حرارت والے وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اس چکر کو الٹا چلایا نہیں جاسکتا کہ خود بخود یہ حرارت، کم حرارت کے وجود سے زیادہ حرارت کے وجود میں منتقل ہونے لگے، نا کارگی ، دستیاب توانائی (available energy) اور غیر دستیاب توانائی (unavailable energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے، اور اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی نا کارگی برابر بڑھ رہی ہے، اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہو جائے گی، اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہ رہے گی، اس کا نتیجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page