تمهید
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید جدید دور کو، جہاں تک اس کے مخالف مذہب ہونے کی حیثیت کا تعلق ہے، دور الحاد کہا جاتا ہے۔ مگر اس الحاد کا مطلب خدا کا مدعیا نہ انکار نہیں ہے، بلکہ اس کی اپنی تشریح کے مطابق ، یہ محض ایک طریق مطالعہ ہے جو ذہنی اور علمی ارتقا کے ایک مخصوص دور میں انسان کو حاصل ہوا ہے۔ اس ارتقائی مطالعہ کا لازمی تعلق کسی چیز کے انکار یا اثبات سے نہیں ہے بلکہ وہ مجرد ایک طریق جستجو ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جدید مفکرین کے نزدیک اس طریق جستجو نے مذہب کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ یہاں میں مائلز (1923-2008, T.R Miles) کے الفاظ نقل کروں گا: موجودہ رجحان ایک ٹیکنیک ، ایک طریقہ، سوالات کے مطالعہ کے ایک ڈھنگ کی طرف ہے، نہ کہ مسائل کا قطعی جواب دینا۔ یہ ایک نمایاں تبدیلی ہے، جو پچھلی نصف صدی کے اندر فلسفہ کی دنیا میں ہوئی ہے۔ یہ صورتحال ابھی جاری ہے اور بہت دور تک اس میں ٹھہراؤ کی امید نظر نہیں آتی۔‘‘ Religion and the Scientific Outlook, (1959) P.13 جدید مفکرین کی اپنے موقف کے بارے میں یہ تشریح خواہ اسے ہم ایک خالص علمی بات سمجھیں یا اس کو یہ حیثیت دیں کہ مذہب بیزاری کے بعد کائنات کی مادی توجیہہ ڈھونڈنے میں انسان کو جو ناکامی ہوئی ہے، اس کے بعد یہ ایک خوبصورت جائے پناہ ہے جو اس نے تلاش کی ہے، بہر حال ہماری مدافعانہ کوششوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کریں۔ مثال کے طور پر اثباتِ رسالت کے عنوان پر ہمارے یہاں جو کام ہو رہا ہے، اس میں اکثر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ دور جدید کا یہ دعویٰ ہے کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے رسول تھے۔‘‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader