کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
اندر تقریباً ایک ہزار ملین عصبی خانے (nerve cells) ہیں۔ ہر خانے سے بہت باریک تار نکل کر تمام جسم کے اندر پھیلے ہوتے ہیں جن کو عصبی ریشے (nerve fibers) کہتے ہیں۔ ان پتلے ریشوں پر خبر وصول کرنے اور حکم بھیجنے کا ایک نظام تقریباً ستر (70) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔ انھیں اعصاب کے ذریعہ ہم چکھتے ہیں، سنتے ہیں، دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، اور سارا عمل کرتے ہیں۔ زبان میں تین ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں، جن میں ہر ایک اپنے علیحدہ عصبی تار کے ذریعہ دماغ سے جڑا ہوا ہے۔ انھیں کے ذریعہ وہ ہر قسم کے مزوں کو محسوس کرتا ہے، کان میں ایک لاکھ تعداد میں سماعت خانے ہوتے ہیں۔ انھیں خانوں سے ایک نہایت پیچیدہ عمل کے ذریعہ ہمارا دماغ سنتا ہے۔ ہر آنکھ میں 130 ملین روشنی اخذ کرنے والے (light receptors) ہوتے ہیں، جو تصویری مجموعے دماغ کو بھیجتے ہیں۔ ہماری تمام جلد میں حسیا تی ریشوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ اگر ایک گرم چیز جلد کے سامنے لائی جائے تو تقریباً 30 ہزار’’گرم خانے ‘‘ اس کو محسوس کر کے فوراً دماغ کو اس کی خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح جلد میں دو لاکھ پچاس ہزار خانے ایسے ہیں، جو سرد چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔ جب کوئی سرد چیز جسم سے ملتی ہے تو دماغ اس کی خبروں سے بھر جاتا ہے، جسم کا پنے لگتا ہے، جلد کی رگیں پھیل جاتی ہیں، فوراً مزید خون رگوں میں دوڑ کر آتا ہے تا کہ زیادہ گرمی پہونچائی جاسکے۔ اگر ہم شدید گرمی سے دوچار ہوں تو گرمی کے مخبرین دماغ کو اطلاع کرتے ہیں، اور تین ملین پسینہ کے غدود (glands) ایک ٹھنڈا عرق خارج کرنا شروع کرتے ہیں۔ عصبی نظام (nervous system) کی کئی تقسیمیں ہیں۔ ان میں سے ایک خود کار عصبی نظام [ANS] (autonomic nervous system) ہے۔ یہ ایسے افعال انجام دیتا ہے، جو خود بخود جسم کے اندر ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً ہضم، سانس لینا اور دل کی حرکت،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader