Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب نہیں تھا، چنانچہ اس نے کہا کہ میں اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کر سکتا۔ وائٹ ہیڈ (A. N. Whitehead) اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’نیوٹن نے یہ کہہ کر ایک عظیم فلسفیانہ حقیقت کا اظہار کیا ہے، کیوں کہ فطرت اگر بے روح فطرت ہے، تو وہ ہم کو توجیہ نہیں دے سکتی، ویسے ہی جیسے مردہ آدمی کوئی واقعہ نہیں بتا سکتا، تمام عقلی اور منطقی توجیہات آخری طور پر ایک مقصدیت کا اظہار ہیں، جب کہ مردہ کا ئنات میں کسی مقصدیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ The Age of Analysis, p. 85 وائٹ ہڈ کے الفاظ کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ کائنات اگر کسی صاحب شعور کے زیراہتمام نہیں ہے، تو اس کے اندر اتنی معنویت کیوں پائی جاتی ہے۔ زمین اپنے محور پر چوبیس گھنٹے میں ایک چکر پورا کر لیتی ہے، یوں کہیے کہ وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ فرض کرو اس کی رفتار دو سو میل فی گھنٹہ ہو جائے اور یہ بالکل ممکن ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے دن اور ہماری راتیں موجودہ کی نسبت سے دس گنا زیادہ لمبے ہو جائیں گے۔ گرمیوں کا سخت سورج ہر دن تمام نباتات کو جلا دے گا اور جو بچے گا وہ لمبی رات کی ٹھنڈک میں پالے کی نذر ہو جائے گا۔ سورج جو اس وقت ہمارے لیے زندگی کا سرچشمہ ہے۔ اس کی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ کا ٹمپرپیچر ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے اور یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حداہمیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اگر یہ فاصلہ گھٹ جائے ۔ مثلاً سورج نصف کے بقدر قریب آ جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ اس سے کاغذ جلنے لگے، اور اگر موجودہ فاصلہ دگنا ہو جائے تو اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ زندگی باقی نہ رہے۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی جب موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page