Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

ستارہ آجاۓ۔ مثلاً کوئی بہت بڑا ستارہ جس کی گرمی ہمارے سورج سے دس ہزار گنا زیادہ ہے، اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا۔ زمین 23 درجہ کا زاویہ بناتی ہوئی فضا میں جھکی ہوئی ہے۔ یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو گیا ہے، اور مختلف قسم کے نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر زمین اس طرح سے جھکی ہوئی نہ ہوتی تو قطبین پر ہمیشہ اندھیرا رہتا۔ سمندر کے بخارات شمال اور جنوب کی جانب سفر کرتے اور زمین پر یا برف کے ڈھیر ہوتے یا صحرائی میدان۔ اس طرح کے اور بہت سے اثرات ہوتے جس کے نتیجے میں بغیر جھکی ہوئی زمین پر زندگی ناممکن ہو جاتی۔ یہ کس قدر نا قابلِ قیاس بات ہے کہ مادہ نے خود کو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شکل میں منظم کر لیا! اگر سائنس دانوں کا قیاس صحیح ہے کہ زمین سورج سے ٹوٹ کر نکلی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی زمین کا درجہ حرارت وہی رہا ہوگا جو سورج کا ہے، یعنی بارہ ہزار ڈگری فارن ہائیٹ، اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، آکسیجن اور ہائیڈروجن کا ملنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک زمین کا درجہ حرارت گھٹ کر چار ہزار ڈگری پر نہ آجاۓ، اسی موقع پر دونوں گیسوں کے باہم ملنے سے پانی بنا، اس کے بعد کروڑوں سال تک زمین کی سطح اور اس کی فضا میں زبردست انقلابات ہوتے رہے، یہاں تک کہ غالباً ایک ملین سال پہلے زمین اپنی موجودہ شکل میں تیار ہوئی، زمین کی فضا میں جو گیسیں تھیں ان کا ایک بڑا حصہ خلا میں چلا گیا، ایک حصہ نے پانی کے مرکب کی صورت اختیار کی، ایک حصہ زمین کی تمام چیزوں میں جذب ہو گیا، اور ایک حصہ ہوا کی شکل میں ہماری فضا میں باقی رہ گیا جس کا بیشتر جزء آکسیجن اور نائٹروجن ہے یہ ہوا اپنی کثافت کے اعتبار سے زمین کا تقریباً بس لاکھوں حصہ ہے۔ کیوں نہیں ایسا ہوا کہ تمام گیسیں جذب ہو جاتیں یا کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page