Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا نہیں ہوا کہ موجودہ کی نسبت سے ہوا کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ، دونوں صورتوں میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا تھا ، یا اگر بڑھی ہوئی گیسوں کے ہزاروں پونڈ فی مربع انچ بوجھ کے نیچے زندگی پیدا بھی ہوتی تو یہ ناممکن تھا کہ وہ انسان کی شکل میں نشوونما پاسکے۔ زمین کی اوپری پرت اگر دس فٹ موٹی ہوتی تو ہماری فضا میں آکسیجن کا وجود نہ ہوتا، جس کے بغیر حیوانی زندگی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر سمندر کچھ فٹ اور گہرے ہوتے تو کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کو جذب کر لیتے اور زمین کی سطح پر کسی قسم کی نباتات زندہ نہ رہ سکتیں ، اگر زمین کے اوپر کی ہوائی فضا موجودہ کی نسبت سے لطیف ہوتی تو شہاب ثاقب (meteoroid) جو ہر روز اوسطاً دو کروڑ کی تعداد میں اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہم کو جلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ زمین کے ہر حصے میں گرتے۔ یہ شہابیے (meteoroids) چھ سے چالیس میل تک فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں ۔ وہ زمین کے اوپر ہر آتش پذیر مادے کو جلا دیتے اور سطح زمین کو چھلنی کر دیتے ، شہاب ثاقب بندوق کی گولی سے نوے گنا زیادہ رفتار کے ساتھ انسان جیسی مخلوق کو محض اپنی گرمی سے ٹکڑے کر دیتی، مگر ہوائی کرہ اپنے نہایت مناسب موٹائی کی وجہ سے ہم کو شہاب ثاقب کی آتشیں بوچھاڑ سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ہوائی کرہ ٹھیک اتنی کثافت رکھتا ہے کہ سورج کی کیمیائی اہمیت رکھنے والی شعائیں (actinic rays) اسی مناسب مقدار سے زمین پر پہنچتی ہیں ، جتنی نباتات کو اپنی زندگی کے لیے ضرورت ہے جس سے مضر بیکٹیریا مر سکتے ہیں ، جس سے وٹامن تیار ہو سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ زمین پر ہر چیز کا اس طرح عین ہماری ضرورت کے مطابق ہونا کس قدر عجیب ہے۔ زمین کی اوپری فضا چھ گیسوں کا مجموعہ ہے، جس میں تقریباً 78 فیصد نائٹروجن اور 21 فیصد آکسیجن ہے، باقی گیسیں بہت خفیف تناسب میں پائی جاتی ہیں ، اس فضا سے زمین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page