Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

کی سطح پر تقریباً 15 پونڈ فی مربع انچ کا دباؤ پڑتا ہے، جس میں آکسیجن کا حصہ 3 پونڈ فی مربع inch ہے، موجودہ آکسیجن کا بقیہ حصہ زمین کی تہوں میں جذب ہے، اور وہ دنیا کے تمام پانی کا دس میں سے آٹھ حصہ بناتا ہے آکسیجن تمام خشکی کے جانوروں کے لیے سانس لینے کا ذریعہ ہے ، اور اس مقصد کے لیے فضا کے سوا کہیں اور سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انتہائی متحرک گیسیں کس طرح آپس میں مرکب ہوئیں اور ٹھیک اس مقدار اور اس تناسب میں فضا کے اندر باقی رہ گئیں جو زندگی کے لیے ضروری تھا، مثال کے طور پر آکسیجن 21 فیصد کے بجائے پچاس فیصد یا اس سے زیادہ مقدار میں فضا کا جز ہوتا تو سطح زمین کی تمام چیزوں میں آتش پذیری کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی کہ ایک درخت میں آگ پکڑتے ہی سارا جنگل بھک سے اڑ جاتا، اسی طرح اگر اس کا تناسب گھٹ کر 10 فیصد رہتا تو ممکن ہے زندگی صدیوں کے بعد ہم آہنگی اختیار کرلیتی مگر انسانی تہذیب موجودہ شکل میں ترقی نہیں کر سکتی تھی، اور اگر آزاد آکسیجن بھی بقیہ آکسیجن کی طرح زمین کی چیزوں میں جذب ہوگئی ہوتی تو حیوانی زندگی سرے سے ناممکن ہوجاتی۔ آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور کاربن گیسیں الگ الگ مختلف شکلوں میں مرکب ہو کر حیات کے اہم ترین عناصر ہیں، یہی وہ بنیادیں ہیں، جن پر زندگی قائم ہے، اس کا ایک فی ارب بھی امکان نہیں ہے کہ وہ ایک وقت میں کسی ایک سیارہ پر اس مخصوص تناسب کے ساتھ اکٹھا ہوجائیں، ایک عالم طبیعیات کے الفاظ میں۔ سائنس کے پاس ان حقائق کی توجیہ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، اور اس کو اتفاق کہنا ریاضیات سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے: “Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics.” (The Age of Analysis, p. 33)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page