کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ہماری دنیا میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہیں جن کی توجیہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتی کہ اس کی تخلیق میں ایک برتر ذہانت کا دخل تسلیم کیا جائے۔ پانی کی مختلف نہایت اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ برف کی کثافت (density) پانی سے کم ہوتی ہے، پانی وہ واحد معلوم مادہ ہے، جو جمنے کے بعد ہلکا ہو جاتا ہے، یہ چیز بقائے حیات کے لیے زبردست اہمیت رکھتی ہے، اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ برف پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے، اور دریاؤں جھیلوں اور سمندروں کی تہ میں بیٹھ نہیں جاتا، ورنہ آہستہ آہستہ سارا پانی ٹھوس اور منجمد ہو جائے، یہ پانی کی سطح پر ایک ایسی حاجب تہ بن جاتا ہے کہ اس کے نیچے کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر ہی اوپر رہتا ہے، اس نادر خاصیت کی وجہ سے مچھلیاں اور دیگر آبی جانور زندہ رہتے ہیں، اس کے بعد جونہی موسم بہار آتا ہے، برف فوراً پگھل جاتا ہے، اگر پانی میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو خاص طور پر سرد ملکوں کے لوگوں کو بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب کہ امریکا میں اینڈوتھیا(Endothia) نام کی بیماری شاہ بلوط(Chestnut) کے درختوں پر حملہ آور ہوئی اور تیزی سے پھیلی تو بہت سے لوگوں نے جنگل کی چھتری میں شگاف دیکھ کر کہا،’’یہ شگاف اب پر نہیں ہوں گے‘‘ امریکی شاہ بلوط کی بالادستی کو ابھی تک کسی اور قسم کے اشجار نے نہیں چھینا تھا، اونچے درجے کی دیر پا عمارتی لکڑی اور اس طرح کے دوسرے فوائد اس کے لیے خاص تھے، یہاں تک کہ 1900 میں ایشیا سے اینڈوتھیا نام کی بیماری کا ورود ہوا اس وقت تک یہ جنگلات کا بادشاہ خیال کیا جاتا تھا، مگر اب جنگلات میں یہ درخت تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ لیکن جنگلات کے یہ شگاف جلد ہی پر ہو گئے، کچھ دوسرے درخت (Tulip Trees) اپنی نشوونما کے لیے شاید انھیں شگافوں کا انتظار کر رہے تھے، شگاف پیدا ہونے سے پہلے تک یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader