کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت جنگلات کا معمولی سا جز تھے، اور شاذ ہی بڑھتے اور پھولتے تھے، لیکن اب شاہ بلوط کی عدم موجودگی کا کسی کو احساس تک نہیں ہوتا، کیوں کہ اب دوسری قسم کے درخت پوری طرح ان کی جگہ لے چکے ہیں، یہ دوسرے درخت سال بھر میں ایک انچ محیط میں اور چھ فٹ لمبائی میں بڑھتے ہیں، اتنی تیزی کے ساتھ بڑھنے کے علاوہ بہترین لکڑی جو بالخصوص باریک تہوں کے کام آسکتی ہے، ان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اسی صدی کا واقعہ ہے، ناگ پھنی کی ایک قسم آسٹریلیا میں کھیتوں کی باڑ قائم کرنے کے لیے بوئی گئی آسٹریلیا میں اس ناگ پھنی کا کوئی دشمن کیڑا نہیں تھا، چنانچہ وہ بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی، یہاں تک کہ انگلینڈ کے برابر رقبہ پر چھاگئی، وہ شہروں اور دیہاتوں میں آبادی کے اندر گھس گئی، کھیتوں کو ویران کر دیا اور زراعت کو نا ممکن بنا دیا، کوئی تدبیر بھی اس کے خلاف کارگر ثابت نہیں ہوتی تھی، ناگ پھنی آسٹریلیا کے اوپر ایک ایسی فوج کی طرح مسلط تھی جس کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا، بالآخر ماہرین حشرات الارض دنیا بھر میں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے نکلے، یہاں تک کہ ان کی رسائی ایک کیڑے تک ہوئی جو صرف ناگ پھنی کھا کر زندہ رہتا تھا، اس کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں تھی، وہ بہت تیزی سے اپنی نسل بڑھاتا تھا، اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن نہیں تھا، اسی کیڑے نے آسٹریلیا میں ناگ پھنی کی ناقابل تسخیر فوج پر قابو پالیا اور وہاں سے اس مصیبت کا خاتمہ ہو گیا۔ قدرت کے نظام میں یہ ضبط و توازن (Checks and Balances) کی عظیم تدبیر میں کیا کسی شعوری منصوبے کے بغیر خود بخود وجود میں آ جاتی ہیں؟ کائنات میں حیرت انگیز طور پر ریاضیاتی قطعیت پائی جاتی ہے، یہ جامد و بے شعور مادہ جو ہمارے سامنے ہے، اس کا عمل غیر منظم اور بے ترتیب نہیں بلکہ وہ متعین قوانین کا پابند ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader