کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
”پانی“ کا لفظ خواہ دنیا کے جس خطہ میں اور جس وقت بھی بولا جائے اس کا ایک ہی مطلب ہوگا— ایک ایسا مرکب جس میں 11،1 فیصد ہائیڈروجن اور 88،9 فیصد آکسیجن۔ ایک سائنس داں جب تجربہ گاہ میں داخل ہو کر پانی سے بھرے ہوئے ایک پیالے کو گرم کرتا ہے، تو وہ تھرما میٹر کے بغیر یہ بتا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش 100 درجہ سینٹی گریڈ ہے، جب تک کہ ہوا کا دباؤ (Atmospheric Pressure) 670 ایم ایم رہے، اگر ہوا کا دباؤ اس سے کم ہو تو اس حرارت کو وجود میں لانے کے لیے کم طاقت درکار ہوگی جو پانی کے سالمات کو توڑ کر بخارات کی شکل دیتی ہے، اس طرح نقطۂ جوش سو درجۂ سے کم ہو جائے گا، یہ تجربہ اتنی بار آزمایا گیا ہے کہ اس کو یقینی طور پر پہلے سے بتایا جا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش کیا ہے، اگر مادہ اور توانائی کے عمل میں یہ نظم اور ضابطہ نہ ہوتا تو سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے لیے کوئی بنیاد نہ ہوتی، کیوں کہ پھر اس دنیا میں محض اتفاقات کی حکمرانی ہوتی اور علمائے طبیعیات کے لیے یہ بتانا ممکن نہ رہتا کہ فلاں حالت میں فلاں طریق عمل کے دہرانے سے فلاں نتیجہ پیدا ہو گا۔ کیمیا کے میدان میں نو وارد طالب علم سب سے پہلے جس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے، وہ عناصر میں نظم اور دوریّت ہے، سو سال پہلے ایک روسی ماہر کیمیا مینڈلیف (Mendeleev) نے جوہری قدر کے لحاظ سے مختلف کیمیائی عناصر کو ترتیب دیا تھا، جس کو دوری نقشہ (Periodic Chart) کہا جاتا ہے، اس وقت تک موجودہ تمام عناصر دریافت نہیں ہوئے تھے، اس لیے اس کے نقشہ میں بہت سے عناصر کے خانے خالی تھے، جو عین اندازے کے مطابق بعد کو پر ہو گئے ان نقشوں میں سارے عناصر جوہری نمبروں کے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں میں درج کیے جاتے ہیں، جوہری نمبر سے مراد مثبت برقیوں (Protons) کی وہ تعداد ہے جو ایٹم کے مرکز میں موجود ہوتی ہے، یہی تعداد ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader