کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
عنصر کے ایٹم اور دوسرے عنصر کے ایٹم میں فرق پیدا کر دیتی ہے، ہائیڈروجن جو سب سے سادہ عنصر ہے ۔ اس کے ایٹم کے مرکز میں ایک پروٹون ہوتا ہے، ہیلیم میں دو اور لیتھیم میں تین ،مختلف عناصر کی جدول تیار کرنا ہی لیے ممکن ہو سکا کہ ان میں حیرت انگیز طور پر ایک ریاضیاتی اصول کار فرما ہے، نظم و ترتیب کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ عنصر 101 کی شناخت محض اس کے 17 پروٹونوں کے مطالعہ سے کر لی گئی ، قدرت کی اس حیرت انگیز تنظیم کو ہم دوری اتفاق (Periodic Chance) نہیں کہتے ، بلکہ اس کو دوری ضابطہ (Periodic Law) کہتے ہیں ، مگر نقشہ اور ضابطہ جو یقینی طور پر ناظم اور منصوبہ ساز کا تقاضا کرتے ہیں ، منکر خدا اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اگر خدا کو نہ مانے تو وہ خود اپنی تحقیق کے ایک لازمی نتیجے کا انکار کرے گی ۔ ” 11 اگست 1999 ء میں ایک سورج گرہن واقع ہو گا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا‘‘ ۔ یہ محض ایک قیاسی پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ علمائے فلکیات یقین رکھتے ہیں کہ نظام شمسی کے موجودہ گردشی نظام کے تحت اس گہن کا پیش آنا یقینی ہے ، جب ہم آسمان میں نظر ڈالتے ہیں تو ہم لا تعداد ستاروں کو ایک نظام میں منسلک دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ان گنت صدیوں سے اس فضائے بسیط میں جو عظیم گیند میں معلق ہیں۔ وہ ایک ہی معین راستے پر گردش کرتی چلی جا رہی ہیں۔ وہ اپنے مداروں میں اس نظم کے ساتھ آتی اور جاتی ہیں کہ ان کے جائے وقوع اور ان کے درمیان ہونے والے واقعات کا صدیوں پیشتر بالکل صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ پانی کے ایک حقیر قطرے سے لے کر فضائے بسیط میں پھیلے ہوئے دور دراز ستاروں تک ایک بے مثال نظم و ضبط پایا جاتا ہے ۔ ان کے عمل میں اس درجہ یکسانیت ہے کہ اس بنیاد پر قوانین مرتب کرتے ہیں ۔ نیوٹن کا نظریہ کشش فلکیاتی کروں کی گردش کی توجیہ کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader