Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

میں A.C. Adams اور لاویریے(U. Leverrier) کو وہ بنیادی ملی، جس سے وہ دیکھے بغیر ایک ایسے سیارے کے وجود کی پیشین گوئی کر سکیں، جو اس وقت تک نامعلوم تھا۔ چنانچہ ستمبر 1946ء کو ایک رات کو جب برلن آبزرویٹری کی دوربین کا رخ آسمان میں ان کے بتائے ہوئے مقام کی طرف کیا گیا تو فی الواقع نظر آیا کہ ایسا ایک سیارہ نظام شمسی میں موجود ہے، جس کو ہم اب نیپچون (Neptune) کے نام سے جانتے ہیں— کس قدر ناقابل قیاس بات ہے کہ کائنات میں یہ ریاضیاتی قطعیت خود بخود قائم ہوگئی ہو۔ کائنات کی حکمت ومعنویت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اندر سے ایسے امکانات رکھے گئے ہیں کہ انسان بوقت ضرورت تصرف کر کے اس کو اپنے لیے استعمال کر سکے، مثال کے طور پر نائٹروجن کے مسئلہ کو لیجیے، ہوا کے ہر جھونکے میں نائٹروجن 78 فی صد ہوتا ہے، اس کے علاوہ بہت سے کیمیائی اجزاء ہیں، جن میں نائٹروجن شامل ہوتا ہے، ان کو ہم مرکب نائٹروجن کہہ سکتے ہیں، یہی وہ نائٹروجن ہے، جس کو پودے استعمال کرتے ہیں اور جن سے ہماری غذا کا نائٹرو جنی حصہ تیار ہوتا ہے، اگر یہ نہ ہو تو انسان اور جانور بھوکے مر جائیں۔ صرف دو طریقے ہیں، جن سے قابل تحلیل نائٹروجن مٹی میں مل کر کھاد بنتا ہے، اگر یہ نائٹروجن مٹی میں شامل نہ ہو تو کوئی بھی غذائی پودانہ آگے، ایک طریقہ جس سے یہ نائٹروجن مٹی میں شامل ہوتا ہے وہ مخصوص بیکٹیر یائی عمل ہے، یہ بیکٹیریا دال کے پودوں کی جڑوں میں رہتے ہیں، اور ہوا سے نائٹروجن لے کر اس کو مرکب نائٹروجن کی شکل دیتے رہتے ہیں، پودا جب سوکھ کر ختم ہو جاتا ہے تو اس مرکب نائٹروجن کا کچھ حصہ زمین میں رہ جاتا ہے۔ دوسرا ذریعہ جس سے مٹی کو نائٹروجن ملتا ہے، وہ بجلی کا کڑکا ہے۔ ہر بار جب بجلی کی رو فضا میں گزرتی ہے تو وہ تھوڑے سے آکسیجن کو نائٹروجن کے ساتھ مرکب کر دیتی ہے جو کہ بارش کے ذریعہ ہمارے کھیتوں میں پہنچ جاتا ہے، اس طرح سے جونائٹریٹ نائٹروجن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page