کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل ہوتا ہے، اس کا اندازہ سالانہ ایک ایکڑ زمین میں پانچ پونڈ ہے جو کہ تیس پونڈ سوڈیم نائٹریٹ کے برابر ہے۔ Lyon, Bockman and Brady, The Nature and Properties of Soil یہ دونوں طریقے بہرحال ناکافی تھے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کھیت جن میں عرصہ دراز تک کھیتی ہوتی رہتی ہے، ان کا نائٹروجن ختم ہو جاتا ہے، اور اسی لیے کاشتکار فصلوں کا الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسے مرحلے میں جب کہ اضافہ آبادی اور کثرت کاشت کی وجہ سے مرکب نائٹروجن کی کمی محسوس کی جانے لگی تھی، اور انسان کو مستقبل میں قحط کے آثار نظر آنے لگے تھے، اور یہ صرف موجودہ صدی کے آغاز کی بات ہے کہ عین اس وقت وہ طریقہ دریافت ہو گیا جس سے ہوا کے ذریعہ مصنوعی طور پر مرکب نائٹروجن بنایا جا سکتا ہے، مرکب نائٹروجن بنانے کے لیے جو کوششیں کی گئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ فضا میں مصنوعی طور پر بجلی کا کڑک پیدا کیا گیا، کہا جاتا ہے کہ ہوا میں بجلی کی چمک پیدا کرنے کے لیے تقریباً تین لاکھ ہارس پاور کی قوت استعمال کی گئی، اور جیسا کہ پہلے سے اندازہ کیا جا چکا تھا، ایک قلیل مقدار نائٹروجن کی تیار ہو گئی، مگر اب انسان کی خدا داد عقل نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور انسانی تاریخ کے دس ہزار سال بعد ایسے طریقے معلوم کر لیے گئے ہیں، جن سے وہ اس گیس کو کھاد میں تبدیل کر سکتا ہے، اس کے بعد انسان اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی غذا کے اس لازمی جزء کو تیار کر سکے جس کے بغیر وہ بھوکا مر جاتا، یہ نہایت عجیب حسن اتفاق ہے کہ زمین کی تاریخ میں پہلی بار عین وقت پر انسان نے قلت خوراک کا حل دریافت کر لیا، یہ المیہ ٹھیک اس وقت رفع ہو گیا جب کہ اس کے واقع ہونے کا امکان تھا۔ کائنات میں اس طرح کی حکمت و معنویت کے بے شمار پہلو ہیں، ہماری تمام سائنسوں نے ہم کو صرف یہ بتایا ہے کہ جو کچھ ہم نے معلوم کیا ہے، اس سے بہت زیادہ ہے وہ چیز،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader