کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کو معلوم کرنا ابھی باقی ہے، تاہم جو کچھ انسان معلوم کر چکا ہے، وہ بھی اتنا زیادہ ہے کہ اس کے صرف عنوانات کی فہرست دینے کے لیے موجودہ کتاب سے بہت زیادہ ضخیم کتاب کی ضرورت ہوگی، اور پھر بھی عنوانات بچ رہیں گے، انسان کی زبان سے آلاءِ رب اور آیاتِ الہی کا ہر اظہار نا قص اظہار ہے، اس کی جتنی بھی تفصیل کی جائے، جہاں زبان قلم رکیں گے وہاں یہ احساس ضرور موجود ہوگا کہ ہم نے ”بیان‘‘ نہیں کیا بلکہ اس کی ”تحدید‘‘ کردی، حقیقت یہ ہے کہ اگر سارے علوم منکشف ہو جائیں، اور اس کے بعد سارے انسان اس طرح لکھنے بیٹھ جائیں کہ دنیا کے تمام وسائل ان کے لیے مددگار ہوں، جب بھی کائنات کی حکمتوں کا بیان مکمل نہیں ہوسکتا۔ قرآن کے الفاظ میں: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامُ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ (31:27)۔ یعنی اگر زمین کے تمام درخت قلم ہوں اور موجودہ سمندروں کے ساتھ سات اور سمندر ان کی سیاہی کا کام دیں، جب بھی خدا کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ جس نے بھی کائنات کا کچھ مطالعہ کیا ہے، وہ بلاشبہ اعتراف کرے گا کہ کتاب الہی کے ان الفاظ میں ذرا بھی مبالغہ نہیں، وہ صرف ایک موجودہ حقیقت کا سادہ سا اظہار ہے۔ پچھلے صفحات میں کائنات کے حیرت انگیز نظم اور اس کے اندر غیر معمولی حکمت و معنویت کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔ مخالفین مذہب اس کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی دوسری توجیہ کرتے ہیں، اس میں انھیں کسی ناظم ومدبر کا اشارہ نہیں ملتا، بلکہ یہ سب کچھ ان کے نزدیک محض ”اتفاق‘‘ سے ہوگیا ہے۔ ٹی ایچ ہکسلے کے الفاظ میں چھ بندر اگرا ٹائپ رائٹر پر بیٹھ جائیں اور کروڑوں سال تک اسے پیٹتے رہیں تو ہوسکتا ہے کہ ان کے سیاہ کیے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں سے آخری کا غذ پر شیکسپیئر کی ایک نظم (Sonnet) نکل آئے، اسی طرح اربوں اور کھربوں سال مادہ کے اندھا دھند گردش کے دوران میں موجودہ کائنات بن گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader