کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات اگرچہ بجائے خود بالکل لغو ہے، کیوں کہ ہمارے آج تک کے تمام علوم ایسے کسی اتفاق سے قطعا نا واقف ہیں جس کے نتیجہ میں اتنا عظیم، اس قدر با معنی اور مستقل واقعہ وجود میں آجائے جیسی کہ یہ کائنات ہے، بلاشبہ ہم بعض اتفاقات سے واقف ہیں، مثلاً ہوا کا جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اُڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجہ میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے، مگر اس قسم کا اتفاق صرف ایک انتہائی جزئی اور استثنائی واقعہ کی توجیہ کرتا ہے۔ گلاب کا پورا وجود کائنات کے اندر ایک حالت میں اس کی مسلسل موجودگی اور سارے نظام عالم سے اس کا حیرت انگیز ربط، ہوا کے اتفاقی جھونکے سے سمجھا نہیں جاسکتا۔”اتفاقی واقعہ“ کے لفظ میں ایک جزئی صداقت ہونے کے باوجود کائنات کی توجیہ کے اعتبار سے وہ ایک لغو بات ہے۔ پروفیسر ایڈون (Edwin Conklin) کے الفاظ میں”زندگی کا بذریعہ حادثہ (accident) وقوع میں آجانا ایسا ہی ہے جیسے پریس میں دھما کہ ہو جانے سے ایک ضخیم لغت کا تیار ہو جانا۔“ The Evidence of God, p. 174 کہا جاتا ہے کہ ”اتفاق“ کے حوالے سے کائنات کی توجیہ کوئی الل ٹپ بات نہیں ہے، بلکہ سر جمیز کے الفاظ میں وہ خالص ریاضیاتی قوانین اتفاق (purely mathematical laws of chance) پر مبنی ہے۔ The Mysterious Universe, p. 3 اتفاق کی توجیہ کرتے ہوئے ایک مصنف لکھتا ہے: ”اتفاق (Chance) محض ایک فرضی چیز نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی ترقی یافتہ حسابی نظریہ ہے، جس کا اطلاق ان امور پر کیا جاتا ہے جن میں قطعی معلومات ممکن نہیں ہوتیں، اس نظریے کے ذریعہ ایسے بے لاگ اصول ہمارے ہاتھ آجاتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader