Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

بالترتیب تمھارے ہاتھ آجائیں دس بلین (دس ارب) میں صرف ایک بار ہے۔ یہ مثال نقل کرنے بعد کریسی ماریسن (A. Cressy Morrison) لکھتا ہے: "The object in dealing with so simple a problem is to show how enormously figures multiply against chance." (Man does not Stand Alone, p. 17) یعنی یہ سادہ مثال اس لیے دی گئی تا کہ یہ امر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ واقعات کی تعداد کی نسبت سے امکانات کی تعداد کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ اب اندازہ کیجیے کہ اگر سب کچھ محض اتفاق سے ہو گیا ہے، تو اس کے لیے کتنی مدت درکار ہوگی، ذی حیات اشیا کی ترکیب زندہ خلیوں (Living Cells) سے ہوتی ہے، خلیہ ایک نہایت چھوٹا اور پیچیدہ مرکب ہے جس کا مطالعہ علم الخلیہ (Cytology) میں کیا جاتا ہے، ان خلیوں کی تعمیر میں جو اجزاء کام آتے ہیں، ان میں سے ایک پروٹین ہے، پروٹین ایک کیمیائی مرکب ہے، جو پانچ عناصر کے ملنے سے وجود میں آتا ہے ــ کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن اور گندھک پروٹینی سالممہ ان عناصر کے تقریباً چالیس ہزار جواہر (atoms) پر مشتمل ہوتا ہے۔ کائنات میں سو سے زیادہ کیمیائی عناصر بالکل منتشر اور بے ترتیب بکھرے ہوئے ہیں، اب اس امر کا امکان کس حد تک ہے کہ ان تمام عناصر کے بے ترتیب ڈھیر میں سے نکل کر یہ پانچوں عناصر اس طرح باہم ملیں کہ ایک پروٹینی سالممہ آپ سے آپ وجود میں آ جائے، مادے کی وہ مقدار جسے مسلسل ہلانے سے اتفاقاً یہ نتیجہ نکل سکتا ہو اور وہ مدت جس کے اندر اس کام کی تکمیل ممکن ہو، حساب لگا کر معلوم کی جا سکتی ہے۔ سوئزرلینڈ کے ایک ریاضی داں پروفیسر چارلس ایوجین گائی (Charles Eugene Guye) نے اس کا حساب لگایا ہے، اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ اس طرح کے کسی اتفاقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page