Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعہ کا امکان $10^{160}$ کے مقابلے میں صرف ایک درجہ ہوسکتا ہے۔ $10^{160}$ کا مطلب یہ ہے کہ دس کو دس سے ایک سو ساٹھ مرتبہ پے در پے ضرب دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں دس کے آگے ایک سو ساٹھ صفر۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا عدد ہے جس کو الفاظ کی زبان میں ظاہر کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک پروٹینی سالمہ کے اتفاقاً وجود میں آنے کے لیے پوری کائنات کے موجودہ مادہ سے کروڑوں گنا زیادہ مقدار مادہ مطلوب ہوگی جسے یکجا کر کے ہلایا جائے، اور اس عمل سے کوئی نتیجہ برآمد ہونے کا امکان $10^{143}$ سال بعد ہے۔ پروٹین، امینواسڈ (Amino Acids) کے لمبے سلسلوں سے وجود میں آتے ہیں، اس میں سب سے زیادہ اہمیت اس طریقہ کی ہے، جس سے یہ سلسلے باہم ملیں۔ اگر یہ غلط شکل میں یکجا ہو جائیں تو زندگی کی بقا کا ذریعہ بننے کے بجائے مہلک زہر بن جاتے ہیں، پروفیسر جے۔ بی لیتھیز (J. B. Leathes) نے حساب لگایا کہ ایک سادہ سے پروٹین کے سلسلوں کو اربوں اور کھربوں $10^{48}$ طریقے سے یکجا کیا جاسکتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ یہ تمام امکانات ایک پروٹینی سالمہ کو وجود میں لانے کے لیے محض اتفاق سے یکجا ہو جائیں۔ واضح ہو کہ اس انتہائی بعید امکان کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ بے شمار مدت کی تکرار کے بعد لازماً یہ واقعہ ظہور میں آجائے گا، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ممکن ہے، ایسا ہو جائے، دوسری طرف یہ امکان بھی ہے کہ ہمیشہ دہراتے رہنے کے باوجود کبھی بھی ایسا کوئی واقعہ ظہور میں نہ آئے۔ پھر پروٹین خود محض ایک کیمیائی شے ہے، جس میں زندگی موجود نہیں ہوتی، پروٹین کے خلیہ کا جزء بننے کے بعد اس میں زندگی کی حیات کیسے پیدا ہوئی، اس کا جواب اس توجیہ میں نہیں ہے، پھر یہ بھی خلیہ کے صرف ایک ترکیبی جزء، پروٹین کے صرف ایک ناقابل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page