Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

مشاہدہ ذرہ کے وجود میں آنے کی توجیہ ہے، جب کہ صرف ایک ذی حیات جسم کے اندر سنکھ (100 quadrillion) مہا سنکھ (10 quintillion 10) کی تعداد میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں۔ لے کامٹے ڈونواتے(Le Comte Du Nouy) نے اس پر بہت عمدہ اور مفصل بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح کے امکان کے ظہور میں آنے کے لیے جس وقت، جس مقدار مادہ اور جس پہنائی کی ضرورت ہوگی وہ ہمارے تمام اندازوں سے نا قابل یقین حد تک زیادہ ہے، اس کے لیے ایک ایسے عالم کی ضرورت ہے جس کا دائرہ اتنا بڑا ہو جس میں روشنی 1082 سال نور (دس کے آگے 82 صفر) سفر کر کے اس کو پار کر سکتی ہو، یہ حجم موجودہ کائنات سے بہت زیادہ ہے، کیوں کہ ہماری بعید ترین کہکشاں کی روشنی چند بلین سال نور میں ہم تک پہنچ جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آئن سٹائن نے کائنات کی وسعت کا جو اندازہ کیا ہے، وہ اس عمل کے لیے قطعاً ناکافی ہے، پھر اس مفروضہ کا ئنات میں پانچ سو ٹریلین حرکت فی سیکنڈ کی رفتار سے مادہ کی مفروضہ مقدار کو ہلایا جائے تب کہیں اس امر کا امکان پیدا ہوگا کہ پروٹین کا ایک ایسا سالمہ اتفاق سے وجود میں آئے جو زندگی کے لیے ضروری اور مفید ہے، اور اس سارے عمل کے لیے جس مدت کی ضرورت ہے وہ 10243 (ایک کے آگے 243 صفر) بلین سال ہے۔ مگر ہمیں بھولنا نہیں چاہیے‘۔ ڈونواتے لکھتا ہے کہ زمین صرف دو بلین سال سے موجود ہے اور یہ زندگی کی ابتدا صرف ایک بلین سال پہلے ہوئی جب کہ زمین ٹھنڈی ہوئی۔“ Human Destiny, p.30-36 سائنس نے اگرچہ ساری کائنات کی عمر دریافت کرنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ موجودہ کائنات پچاس کھرب سال سے موجود ہے، ظاہر ہے کہ یہ طویل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page