کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر بھی ایک مطلوبہ پروٹینی سالمَہ کو اتفاقاً وجود میں لانے کے لیے ناکافی ہے، مگر جہاں تک زمین کا تعلق ہے جس پر ہماری معلوم زندگی پیدا ہوئی اس کی عمر تو نہایت قطعیت کے ساتھ معلوم کر لی گئی ہے۔ ماہرین فلکیات کے اندازے کے مطابق زمین سورج کا ایک ٹکڑا ہے، جو کسی بڑے ستارے کے کشش سے ٹوٹ کر فضا میں گردش کرنے لگا تھا، اس وقت زمین سورج کی مانند ایک مجسم شعلہ تھی، جس میں کسی بھی قسم کی زندگی پیدا ہونے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اس کے بعد وہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو کر منجمد ہوئی، اس انجماد ہی کے بعد یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ اس میں زندگی کا آغاز ہو۔ زمین کی عمر جب سے کہ وہ ٹھوس ہوئی مختلف طریقوں سے نہایت صحیح طور پر معلوم کی جاسکتی ہے، ان میں سب سے عمدہ طریقہ تابکار عناصر (Radio-Active Elements) کے ذریعہ معلوم ہوا ہے، تابکار عناصر کے ایٹم کے برقی ذرات ایک خاص تناسب سے مسلسل خارج ہوتے رہتے ہیں، اور اسی لیے وہ ہم کو روشن نظر آتے ہیں، اس اخراج یا انتشار کی وجہ سے ان کے برقی ذرات کی تعداد گھٹتی رہتی ہے، اور وہ دھیرے دھیرے غیر تابکار دھات میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، یورنیم اسی قسم کا ایک تابکار عنصر ہے، وہ عمل انتشار کی وجہ سے ایک خاص اور متعین شرح سے سیسہ (Lead) میں تبدیل ہوتا رہتا ہے، یہ پایا گیا ہے کہ اس تبدیلی کی شرح کسی بھی سخت ترین حرارت یا دباؤ سے متاثر نہیں ہوتی، ہم تبدیلی کی اس رفتار کو اٹل سمجھنے میں حق بجانب ہیں، یورنیم کے ٹکڑے مختلف چٹانوں میں پائے جاتے ہیں، اور بلاشبہ وہ اس وقت سے چٹان کا جزء ہیں، جب کہ یہ چٹان منجمد ہوئی یورنیم کے ساتھ ہم سیسہ (Lead) پاتے ہیں، ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ تمام سیسہ جو یورنیم کے ساتھ پایا جاتا ہے، وہ یورنیم کے انتشار (disintegration of Uranium) سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader