Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

وجود میں آیا ہے۔ کیوں کہ یورنیم سے بنا ہوا سیسہ، عام سیسے سے کچھ ہلکا ہوتا ہے، اس لیے سیسہ کے کسی بھی ٹکڑے کے بارے میں یہ کہنا ممکن ہے کہ وہ یورنیم سے بنا ہے یا نہیں، اس سے ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ یورنیم جس چٹان میں ہے وہاں کتنی مدت سے اس پر انتشار کا عمل ہو رہا ہے، اور چوں کہ یورنیم چٹان میں اس وقت سے ہے، جب کہ وہ چٹان منجمد ہوئی، اس لیے ہم اس کے ذریعے سے خود چٹان کے انجماد کی مدت معلوم کر سکتے ہیں۔ اس طرح اندازے بتاتے ہیں کہ چٹان کے انجماد کو کم از کم چودہ سو ملین سال گزر چکے ہیں۔ یہ اندازے ان چٹانوں کے مطالعہ پر مبنی ہیں، جو موجودہ علم کے مطابق، زمین کی قدیم ترین چٹانیں ہیں۔ چنانچہ جے، ڈبلیو، این، سولیون نے زمین کی عمر کا ایک بہتر اوسط دو ہزار ملین سال قرار دیا ہے۔ Limiations of Science, p. 78 اب ظاہر ہے کہ جب صرف ایک غیر ذی روح پروٹینی سالمَہ کے مرکب کو اتفاقاً وجود میں لانے کے لیے سنگھ (quadrillion 100) مہاسنگھ (quintillion 10) سے بھی زیادہ مدت درکار ہے تو صرف دو ہزار ملین سال میں زمین کی سطح پر زندہ اور مکمل اجسام رکھنے والے حیوانات کی دس لاکھ سے زیادہ اور نباتات کی دو لاکھ سے زیادہ اقسام کیسے وجود میں آگئیں اور ہر قسم میں لا تعداد حیوانات و نباتات پیدا ہو کر خشکی اور تری میں کیسے پھیل گئے، اور پھر انھیں ادنیٰ درجہ کی ذی روح اشیا سے اتنی قلیل مدت میں انسان جیسی اعلیٰ مخلوق اتفاقاً کیسے وجود میں آگئی جب کہ نظریہ ارتقا انواع میں جن اتفاقی تبدیلیوں کے اوپر اپنی بنیاد کھڑی کرتا ہے، ان میں سے ہر تبدیلی کا حال یہ ہے کہ ماہر ریاضی پاچو (Patau) نے حساب لگایا ہے کہ کسی ذی حیات میں نئی تبدیلی کو مکمل ہوتے ہوتے دس لاکھ پشتوں کے گزر جانے کا امکان ہے۔ The Evidence of God, p. 117

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page