Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے اندازہ کیجیے کہ اگر محض ارتقا کے اندھے مادی عمل کے ذریعہ کتے کی طرح پانچ انگلیاں رکھنے والے جدا مجد کی نسل میں بے شمار تبدیلیوں کے جمع ہونے سے گھوڑے جیسا مختلف جانور بن گیا ہے، تو اس کے بننے میں کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکی عالمِ عضویات ایم۔ بی کریڈر (Martin Broks Kreider ) کے الفاظ کس قدر صحیح ہیں : “The mathematical probability of a chance occurrrnce of all the necessary factors in the right proportion is almost nil.” (The Evidence of God, p. 67) یعنی تخلیق کے تمام ضروری اسباب کا صحیح تناسب کے ساتھ اتفاقاً اکٹھا ہو جانے کا امکان ریاضیاتی طور پر قریب قریب نفی کے برابر ہے۔ یہ طویل تجزیہ محض اتفاقی پیدائش کے نظریے کے لغویت واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ”اتفاق“ سے نہ کوئی ایٹم یا مالے کیوں وجود میں آسکتا ہے، اور نہ وہ ذہن پیدا ہو سکتا ہے، جو یہ سوچ رہا ہے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی، خواہ اس کے لیے کتنی ہی طویل مدت فرض کی جائے، یہ نظریہ نہ صرف ریاضیاتی طور پر محال ہے، بلکہ منطقی حیثیت سے بھی وہ اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا، یہ ایسی ہی لغوبات ہے، جیسے کوئی کہے کہ ایک گلاس پانی فرش پر گرنے سے دنیا کا نقشہ مرتب ہو سکتا ہے، ایسے شخص سے بجا طور پر پوچھا جاسکتا ہے کہ اس اتفاق کے پیش آنے کے لیے فرق، زمینی کشش، پانی اور گلاس کہاں سے وجود میں آگئے۔ علم حیاتیات کا مشہور عالم ہیکل (Haeckel) نے کہا تھا۔ ”مچھے ہوا، پانی، کیمیائی اجزاء اور وقت دو، میں ایک انسان بنا دوں گا۔“ مگر یہ کہتے ہوئے وہ بھول گیا کہ اس اتفاق کو وجود میں لانے کے لیے ایک ہیکل اور مادی حالات کی موجودگی کو ضروری قرار دے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page