کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
کرو خوداپنے دعوی کی تردید کر رہا ہے، بہت خوب کہا ہے مارلیسن نے: ”ہیکل نے یہ کہتے ہوئے جين اور خودزندگی کے مسئلہ کو نظر انداز کر دیا، انسان کو وجود میں لانے کے لیے اس کو سب سے پہلے ناقابل مشاہدہ ایٹم فراہم کرنے ہوں گے، پھر ان کو مخصوص ڈھنگ سے ترتیب دے کر جين بنانا ہوگا، اور اس کو زندگی دینی ہوگی، پھر بھی اس کی اس اتفاقی تخلیق کا امکان کروروں میں ایک کا ہے، اور بالفرض اگر وہ کامیاب بھی ہو جائے تو اس کو وہ اتفاق (accident) نہیں کہہ سکتا بلکہ وہ اس کو اپنی ذہانت (intelligence) کا ایک نتیجہ قرار دے گا۔“ Man does not Stand Alone, p. 87 اس بحث کو میں ایک امریکی عالم طبیعیات جارج ارل ڈیوس (Earl Davis) کے الفاظ پر ختم کروں گا: ”اگر کائنات خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اندر خالق کے اوصاف رکھتی ہے، ایسی صورت میں ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ کائنات خود خدا ہے، اس طرح اگر چہ ہم خدا کے وجود کو تو تسلیم کر لیں گے، لیکن وہ نرالا خدا ہوگا جو بیک وقت مافوق الفطرت بھی ہوگا اور مادی بھی، میں اس طرح کے کسی مہمل تصور کو اپنانے کے بجائے ایک ایسے خدا پر عقیدے کو ترجیح دیتا ہوں جس نے عالم مادی کی تخلیق کی ہے، اور اس عالم کا وہ خود کوئی جز نہیں، بلکہ اس کا فرمانروا اور ناظم ومدبر ہے۔“ The Evidence of God, p.71

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader