طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ نہ کوئی خوردبین اسے دکھا سکتی ہے اور نہ کوئی ترازواس سے تول سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود سائنس کی دنیا میں الیکٹران کو ایک حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ الیکٹران بذات خود تو نظر نہیں آتا، مگر اس کے کچھ ایسے اثرات (effects) قابل اعادہ تجربات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں جن کی توجیہہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ ہم الیکٹران جیسے ایک نظام کا وجود فرض کریں۔ الیکٹران بذات خود ایک مفروضہ ہے مگر اس مفروضہ کی بنیاد چونکہ بالواسطہ تجربہ پر ہے اس لیے سائنس اسے تسلیم کرتی ہے۔ معیار استدلال میں اس تیسرے اضافہ کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ وہ معنی خیز حقائق ہمارے دسترس میں آسکے جن کا دوسرا نام جدید طبیعیات یا نیوکلیئر سائنس ہے۔ (4) مگر مطالعہ نے بتایا کہ یہ تیسرا معیار بھی آخری نہیں ہے۔ اس سے جو حقائق ہمیں دستیاب ہوتے ہیں، وہ تمام تر وہی ہیں جن کو ایک عالم نے تکنیکی حقائق (technical truths) کہا ہے جب کہ کائنات کی وسعت تکنیکی حقائق سے بہت آگے جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ معنی خیز حقائق وہاں سے شروع ہوتے ہیں جہاں تکنیکی حقائق کا خاتمہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جسم انسانی کا حیاتیاتی اور عضویاتی مطالعہ ہمارے سامنے بہت سے حقائق کھولتا ہے اور بلا شبہ اس کے اندر معنویت بھی ہے۔ مگر اس سے زیادہ معنی خیز حقیقت وہ ہے جو انسان کے آغاز و انجام سے متعلق ہے مگر یہاں حیاتیات اور عضویات کا رواجبی مطالعہ ہمارا ساتھ نہیں دیتا، اسی لیے ایک مغربی عالم نے کہا ہے بی جو چیز قابل دریافت ہے وہ غیر اہم ہے اور جو چیز اہم ہے وہ قابل دریافت نہیں: “The knowable is unimportant, and the important is unknowable.”

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader