طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اب جدید ذہن معیارِ استدلال کی فہرست میں ایک اور معیار کا اضافہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مشاہدات و تجربات، خواہ خالص تکنیکل سائنس کے معنی میں، اصل دعویٰ سے براہِ راست مربوط نہ ہو، مگر وہ اصل دعویٰ کے حق میں جائز قرینہ پیدا کرتے ہوں، میزان کی توجیہہ کے لیے کوئی بہتر تصور موجود نہ ہو تو ایسے استدلال کو بھی جائز اور صحیح استدلال سمجھا جائے گا۔ یہ آخری معیارِ استدلال بھی جدید ذہن کے لیے ایک معقول معیار (valid criterion) ہے، اور جو چیز اس معیار پر قرار واقعی طور پر پوری اتریے، اس کو بھی ایک ثابت شدہ چیز سمجھا جائے گا۔ اس کی وضاحت کے لیے میں یہاں دو مثالیں دینا چاہتا ہوں۔ ایک منفی اور دوسری مثبت۔ منفی مثال کے ذیل میں جدید ذہن کے خلاف مذہب نظریات کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مذہب کے سلسلہ میں جدید ذہن کا کہنا صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے لیے قابل فہم نہیں ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خود مذہب کی واقعیت کے بارے میں اس نے ایک بیان (statement) دے دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ مذہب ایک سراسر غلط اور بے بنیاد چیز ہے۔ انکار مذہب کا یہ دعویٰ کس معیارِ استدلال کے تحت کیا گیا ہے۔ وہ تمام تر اسی معیار کے تحت ہے، جس کو ہم نے اوپر نمبر 4 کے ذیل میں بیان کیا ہے۔ گویا جدید ذہن مذہب کے خلاف دلیل قائم کرنے کے لیے اس چوتھے معیار کو ایک جائز اور معقول معیار تسلیم کرتا ہے۔ مذہب کے خلاف دورِ جدید کا مقدمہ بیک وقت دو متضاد پہلوؤں کا حامل ہے۔ ایک طرف جدید ذہن کا کہنا ہے کہ مذہب چونکہ ایسے عقائد کے مجموعہ کا نام ہے جس کا مظہرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader