طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
(demonstration) ممکن نہیں ہے، اس لیے وہ شخصی عقیدہ کی چیز ہے۔ دوسروں سے اس کے ماننے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ دوسری طرف فلسفیوں اور سائنس دانوں کی ایک فوج یہ کہہ رہی ہے کہ جدید دریافتوں نے مذہبی عقائد کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیونکہ مذہب اگر ایک ایسے دائرے کی چیز ہے جس کو دوسرے شخص کے سامنے علمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا، تو جس طرح اس کا ثابت کرنا ناممکن ہوگا اسی طرح اسکار رد کرنا بھی ناممکن ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو دورِ جدید کے موقف کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم مذہب کو علمی طور پر مدلل کرنا چاہیں تو وہ کہیں گے کہ تم فضول کوشش کر رہے ہو کیونکہ مذہب ثابت کرنے کی چیز ہی نہیں۔ لیکن جب وہ خود مذہب کے خلاف دلیل قائم کرنا چاہیں تو مذہب ایک ایسے دائرے کی چیز بن جاتا ہے جہاں علمی دلائل قائم کیے جا سکتے ہوں۔ اس تضاد کی وجہ حقیقتاً یہ نہیں ہے کہ مذہب واقعی ایسے دائرے سے تعلق رکھتا ہے جہاں دلائل قائم نہ کیے جا سکتے ہوں۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالفین مذہب یہ نہیں چاہتے کہ جس اصولِ استدلال کے تحت انہوں نے مذہب کا رد کرنا چاہا ہے، اسی اصولِ استدلال کو اہل مذاہب اس کے اثبات کے لیے استعمال کریں۔ کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں مذہب کی مقبولیت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی عدالت میں سرکاری وکیل تو اپنا فرض انجام دے رہا ہو مگر ملزم کو اپنا وکیل رکھنے کی اجازت نہ ہو۔ سرکاری وکیل کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کہ مقدمہ کی وضاحت کے لیے وکیل ہونا چاہیے، مگر اس اصول کو جب ملزم استعمال کرنا چاہے تو حکومت اس کی مخالف ہو جاتی ہے کیونکہ اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ کہیں ملزم کو نہ پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader