طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر اصول یہ ہے کہ حقیقت صرف مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل شدہ چیز کا نام ہے تو مذہب کے مخالفین کا موقف اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جب کہ انہوں نے مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ براہ راست طور پر یہ معلوم کر لیا ہو کہ فی الواقع مذہب کوئی چیز نہیں ہے۔ مثلاً ان کا مشاہدہ اس حد تک مکمل ہو چکا ہو کہ وہ کہہ سکیں کہ عالم کے اندر اور عالم کے باہر جو کچھ ہے وہ سب ہم آخری حد تک دیکھ چکے ہیں اور اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں نہ خدا ہے، نہ فرشتے، نہ جنت نہ دوزخ، بالکل اسی طرح جیسے 10 فٹ چوڑے اور 10 فٹ لمبے ایک خالی کمرے کے اندر ایک بینا شخص ہو تو وہ اس میں نظر دوڑا کر یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ہاتھی یا شیر موجود نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مخالفین مذہب اس موقف میں نہیں ہیں۔ پھر استدلال کا وہ کون سا طریقہ ہے جس سے انہوں نے مذہب کے خلاف مواد حاصل کیا ہے۔ یہ مذہب کا براہ راست مشاہدہ نہیں بلکہ بعض مشاہدات کی توجیہہ ہے۔ مثلاً عالم افلاک میں باہمی کشش کو دریافت کرنے کے بعد یہ کہنا کہ کوئی خدا نہیں ہے، جو کائنات کو سنبھالے ہوئے ہو۔ کیونکہ قانون کشش اس کی توجیہہ کے لیے موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں جس مشاہدہ کی بنیاد پر دلیل قائم کی گئی ہے، وہ خود خدا کا عدم وجود نہیں ہے، یعنی کسی دوربین نے آخری طور پر ہمیں یہ خبر نہیں دی کہ یہ کائنات خدا سے خالی ہے بلکہ ایک خارجی مشاہدہ کی بنیاد پر یہ استنباط کیا گیا ہے کہ خدا کو نہیں ہونا چاہیے۔ گویا مشاہدہ یا تجربہ خود عدم وجود کا نہیں ہوا بلکہ ایک اور واقعہ کا ہوا ہے جس سے عدم وجود کو قیاس کر لیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اصول استدلال جس کو موجودہ زمانہ میں مذہب کے رد کے لیے صحیح سمجھا گیا ہے وہی مذہب کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ غلطی اصول استدلال میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader