طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں بلکہ اصولِ استدلال کے انطباق میں ہے۔ اگر اس کو صحیح طور پر منطبق کیا جائے تو نتیجہ بالکل برعکس برآمد ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ استدلال کے چوتھے معیار کو بھی جدید ذہن، ایک جائز اور معقول (valid criterion) تسلیم کرتا ہے۔ اوپر ہم نے چوتھے معیارِ استدلال کی منفی مثال دی تھی۔ مثبت مثال کے ذیل میں عضویاتی ارتقا (organic evolution) کو پیش کیا جا سکتا ہے جس کو جدید دنیا میں اس طرح تسلیم کر لیا گیا ہے کہ آج علم کی تمام شاخوں میں اس کے اثرات پھیل چکے ہیں۔ نظریہ ارتقا کی صداقت کا ثبوت پہلے اور دوسرے و تیسرے معیار کے مطابق حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی صداقت کا واحد ثبوت صرف اس معیارِ استدلال میں ملتا ہے جس کو اوپر نمبر 4 کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ عضویاتی ارتقا جدید دنیا کے لیے ایک سائنٹفک حقیقت ہے۔ سائنس آف لائف کے مصنفین نے لکھا ہے "عضویاتی ارتقا کے حقیقت ہونے سے اب کسی کو انکار نہیں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو جاہل ہوں یا متعصب ہوں یا اوہم پرستی میں مبتلا ہوں ۔ “ ماڈرن پاکٹ لائبریری (نیو یارک ) نے (Man and the Universe) کے نام سے کتابوں کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے۔ اس سلسلہ کی پانچویں کتاب میں ڈارون کی کتاب ’’اصل الانواع‘‘ کو تاریخ ساز تصنیف قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے : ’’ انسان اپنا شجرہ نسب معلوم کرنے کے لیے طویل ترین مدت سے جو کوشش کر رہا ہے، اس سلسلہ میں کسی نظریہ کو اتنی زبردست مذہبی مخالفت کا سامنا کرنا نہیں پڑا جتنا چارلس ڈارون کے انتخابِ طبعی کو۔ اور نہ کسی دوسرے نظریہ کو اتنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader