Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مزید لکھتا ہے : ”تمام سائنس داں اور دوسرے جاننے والوں میں سے بیشتر لوگ نظریہ ارتقا کی صداقت (truth) پر مطمئن ہو چکے ہیں۔ خواہ وہ جمادات سے متعلق ہو یا حیوانات سے متعلق۔ یعنی یہ کہ زمین جب اس قابل ہوئی کہ اس پر زندہ چیزیں رہ سکیں، اس وقت لمبی مدت کے عمل کے نتیجہ میں زندگی کی کچھ سادہ اقسام پیدا ہوئیں اور اس کے بعد طویل مدت کے مسلسل عمل سے نباتات اور حیوانات کی وہ تمام حیرت انگیز قسم وجود میں آئیں جن کو ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔“ (صفحہ 83) اس نظریہ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ لُل کی سات سو صفحے کی کتاب میں زندگی کے تخلیقی تصور (special creation) پر صرف ایک صفحہ اور چند سطریں ہیں اور بقیہ تمام صفحات عضویاتی ارتقا کے بارے میں ہیں۔ اسی طرح انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1958) میں تخلیق (creationism) کے نظریہ کو چوتھائی صفحہ سے بھی کم دیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں عضویاتی ارتقا کے عنوان کے تحت جو مقالہ شامل کیا گیا ہے وہ باریک ٹائپ کے پورے چودہ صفحات تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مقالے میں بھی حیوانات میں ارتقا کو بطور ایک حقیقت (fact) تسلیم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈارون کے بعد اس نظریہ کو سائنس دانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ میں قبول عام (general acceptance) حاصل ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نظریہ ارتقا کے حق میں وہ کون سے دلائل فراہم ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے دور جدید کے اہل علم نے اس کی صداقت تسلیم کر لی ہے۔ یہاں میں اس کے چند بنیادی پہلوؤں کا ذکر کروں گا، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان دلائل کی نوعیت کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page