طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
1۔ حیوانات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں ادنیٰ اور اعلیٰ اقسام پائی جاتی ہیں۔ واحد الخلیہ جانوروں (single cellular animal) سے لے کر اربوں خلیات رکھنے والے جانور، اسی طرح صلاحیتوں کے اعتبار سے حیوانات میں ادنیٰ اور اعلیٰ درجات کا فرق۔ 2۔ اس ابتدائی مشاہدہ کو جب اس کہانی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جو زمین کی تہوں میں نقش ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس فرق میں باعتبار زمانہ ایک ارتقائی ترتیب ہے۔ کروڑوں برس پہلے زمین پر زندگی کی جو شکلیں آباد تھیں اس کے پنجر قدرتی عمل کے تحت پتھرائی ہوئی حالت میں اب بھی زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کو فاسل (fossil) کہا جاتا ہے۔ یہ فاسل بتاتے ہیں کہ زمین پر زیادہ قدیم دور میں، حیوانات کی جو قسمیں یہاں آباد تھیں، وہ سادہ قسمیں تھیں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے زیادہ پیچیدہ اور ترقی یافتہ قسمیں یہاں آباد تھیں، وہ سادہ قسمیں تھیں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے زیادہ پیچیدہ اور ترقی یافتہ قسمیں آباد ہوتی رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زندگی کی موجودہ قسمیں سب کی سب بیک وقت وجود میں نہیں آئیں ۔ بلکہ سادہ قسمیں وجود میں آئیں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے ترقی یافتہ قسمیں۔ 3۔ اس کے بعد ایک اور حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ مختلف حیوانات کے درمیان نوعی اختلاف کے باوجود ان کے جسمانی نظام میں بہت سی مشابتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً مچھلی چڑیا سے ملتی جلتی ہے اور گھوڑے کا ڈھانچہ انسان کے مشابہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ سارے ذی حیات ایک ہی خاندان کی پیداوار ہیں، اور سب کے اجداد بالآخر ایک ہی تھے۔ 4۔ ایک نوع سے دوسری نوع کیسے نکلی، یہ اس وقت معلوم ہو جاتا ہے جب ہم ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader