Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اور واقعہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ یہ کہ ایک جانور کے بطن سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہوتے بلکہ ان کے مختلف بچوں میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق اگلی نسلوں میں مزید ترقی کرتا ہے اور انتخاب طبعی کے عمل کے تحت آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ فرق لاکھوں سال کے بعد اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ ایک چھوٹی گردن والی بکری، لمبی گردن والے زرافہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس نظریہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ”اینمل بیالوجی“ کے مصنفین (ہالڈینا اور ہکسلے) نے ارتقا کو تبدیلیوں کے انتخاب (selection of mutation) کا نام دیا ہے۔ نظریہ ارتقا کے حامیوں کے دلائل جس معیار استدلال پر اترتے ہیں، وہ کون سا معیار ہے۔ وہ وہی معیار ہے، جس کو ہم نے اوپر نمبر 4 کے تحت بیان کیا ہے۔ یعنی دعویٰ یا اس کے اثرات کا براہ راست تجربہ نہ ہونا۔ البتہ ایسے مشاہدات کا حاصل ہونا، جن سے ان کی صداقت کا منطقی قرینہ معلوم ہوتا ہے۔ نظریہ ارتقا کے حامی ابھی تک ان میں سے ایک چیز کا بھی مشاہدہ یا تجربہ نہیں کر سکے ہیں، جن کے اوپر ان کے نظریہ کی بنیاد قائم ہے۔ مثلاً وہ کسی لیبارٹری میں یہ نہیں دکھا سکتے کہ بے جان مادہ سے زندگی کیسے پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ان کے دعویٰ کی بنیاد صرف یہ ہے کہ طبیعیاتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ پہلے بے جان مادہ تھا۔ پھر کائنات میں زندگی رینگنے لگی۔ اس سے وہ قیاس کر لیتے ہیں کہ زندگی بے جان مادہ سے اسی طرح نکل آئی ہے، جیسے ماں کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے۔ اسی طرح ایک نوع کا دوسرے نوع میں تبدیل ہونا بذات خود کوئی تجربہ اور مشاہدہ کی چیز نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی چڑیا خانہ میں ایسے تجربات کیے جا سکیں جہاں بکری زرافہ بنتی ہوئی نظر آئے۔ بلکہ بعض خارجی مشاہدات، مثلاً مختلف انواع میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page