Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

مشابہت اور ایک نسل کے کئی بچوں میں باہم فرق سے یہ قیاس کر لیا گیا ہے کہ نوعیں الگ الگ وجود میں نہیں آئیں، بلکہ ہر نوع دوسری نوع سے برآمد ہوتی چلی گئی ہے۔ اسی طرح جبلت کا ذہانت کی شکل میں ترقی کرنے کا معاملہ ہے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی حیوان ہی کی ایک اگلی نسل ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ابھی تک کوئی ایسا مشاہدہ سامنے نہیں لایا جا سکا، جہاں فی الواقع جبلت ذہانت میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہو۔ یہ بھی محض ایک قیاس ہے، جس کی بنیاد صرف اس واقعہ پر ہے کہ ارضیاتی تحقیق میں جبلت والے جانوروں کے آثار نچلے طبقات میں ملتے ہیں اور ذہانت والے جانوروں کے آثار اوپر کے طبقات میں۔ اس قسم کے تمام دلائل کی نوعیت یہ ہے کہ دعوٰی اور دلیل کے درمیان جو ربط ہے، وہ صرف قیاسی ربط ہے، نہ کہ تجرباتی یا مشاہداتی ربط۔ مگر اس قسم کے دلائل کی بنیاد پر ارتقا کے تصور کو موجودہ زمانہ میں ایک سائنٹفک حقیقت قرار دے دیا گیا ہے۔ گویا جدید ذہن کے نزدیک علمی حقائق کا دائرہ صرف انہیں واقعات تک محدود نہیں ہے، جو براہ راست تجربہ سے معلوم ہوں۔ بلکہ تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر جو منطقی قرینہ حاصل ہوتا ہے وہ بھی اتنا ہی سائنٹفک حقیقت ہو سکتا ہے جتنا وہ حقیقت جس کا یا جس کے اثرات کا براہ راست تجربہ کیا جا سکتا ہو۔ یہاں مجھے نظریہ ارتقا کی صداقت یا عدم صداقت سے بحث نہیں ہے، کیونکہ یہاں جو سوال ہے وہ اصلاً معیار استدلال سے متعلق ہے نہ کہ نظریہ ارتقا سے متعلق۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ خواہ کوئی بھی معیار استدلال ہو، اس سے ثابت کی ہوئی چیز صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ سائنس میں آئے دن نظریات بدلتے رہتے ہیں، حالانکہ عموماً وہ ان معیاروں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page