Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

مطابق ثابت کیے جاتے ہیں، جو خالص تجرباتی نوعیت سے متعلق ہیں۔ کسی معیارِ استدلال کو جائز اور معقول تسلیم کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے حوالے سے جو بات بھی پیش کردی جائے وہ لازماً صحیح ہو۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ نتیجہ غلط ہو، مگر معیار تسلیم شدہ ہے تو اصل معیار کی معقولیت اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ سر آرتھر کیتھ کے الفاظ میں ارتقا مذہب عقلیت کا ایک بنیادی عقیدہ (basic dogma of rationalism) ہے۔ ایک سائنسی انسائیکلوپیڈیا میں ڈارونزم کو ایک ایسا نظریہ کہا گیا ہے جس کی بنیاد توجیہہ بلا مشاہدہ (without explanations demonstrations پر قائم ہے۔ پھر ایک ایسی چیز جس کا لیبارٹری میں تجربہ نہ کیا جا سکتا ہو، جو صرف عقیدہ ہو، اس کو کس بنا پر علمی حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اے ای مینڈر کے الفاظ میں یہ ہے: 1۔ یہ نظریہ تمام معلوم حقیقتوں سے ہم آہنگ (consistent) ہے۔ 2۔ اس نظریہ میں ان بہت سے واقعات کی توجیہہ مل جاتی ہے جو اس کے بغیر سمجھے نہیں جاسکتے۔ 3۔ دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ Clearer Thinking, p. 112 یہ استدلال جو نظریہ ارتقا کو حقیقت قرار دینے کے لیے معیارِ استدلال کے اعتبار سے کافی سمجھا جاتا ہے، یہی استدلال بدر جہاں زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کے حق میں موجود ہے، ایسی حالت میں جدید ذہن کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ کیوں ارتقا کو سائنسی حقیقت قرار دیتا ہے اور مذہب کو سائنسی ذہن کے لیے ناقابلِ قبول ٹھہراتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page