Urdu book · مذہب اور سائنس

طریقہ استدلال کا مسئلہ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

مندرجہ بالا چوتھے معیار استدلال کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ جب دعویٰ اور تجربہ میں براہ راست کوئی ربط نہیں ہے بلکہ صرف ہمارا استنباط (inference) دونوں کو مربوط کرتا ہے تو کیسے یقین کر لیا جائے کہ ہمارا استنباط لازماً صحیح ہے۔ میں کہوں گا کہ بلاشبہ ہمارے استنباط میں غلطی ہو سکتی ہے۔ مگر صرف یہ امکان اصل معیار کی معقولیت کو متاثر نہیں کر سکتا۔ اگر محض اس بنا پر اس معیار کی معقولیت پر شبہ کیا جائے تو ٹھیک اسی دلیل کی بنیاد پر دوسرے معیاریوں کو بھی مشتبہ قرار دینا پڑے گا جس پر ہماری جدید سائنس کی ساری بنیاد قائم ہے۔ سائنس میں جتنے بھی نظریات تسلیم شدہ ہیں، بلا استثناء ہر ایک کا حال یہ ہے کہ خود اصل نظریات کبھی مشاہدہ یا تجربہ میں نہیں آتے۔ بلکہ بعض خارجی تجربات یا مشاہدات کی بنا پر کچھ نظریات قائم کر لیے گئے ہیں۔ یہاں بھی تجربہ اور نظریہ کو جو چیز باہم مربوط کرتی ہے وہ اصلاً استنباط ہے نہ کہ خود تجربہ اور مشاہدہ۔ سائنس داں کے اس قول کا مطلب کہ (electricity means flow of electron) یہ نہیں ہوتا کہ اس نے بجلی کے کسی تار میں خورد بین سے الیکٹران کو دوڑتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ یہ درحقیقت اس مشہور واقعہ کی ایک تو جیہہ ہوتی ہے کہ جب ہم بٹن دباتے ہیں تو کیوں بلب جل جاتا ہے، پنکھا گھومنے لگتا ہے، کارخانے متحرک ہو جاتے ہیں۔ گویا جس چیز کا تجربہ کیا گیا ہے وہ محض ایک خارجی مظہر ہے نہ کہ خود وہ واقعہ جو اس خارجی مظہر سے مستنبط (infer) کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے سائنس کے تمام نظریات اسی طرح محض قیاسی مفروضے ہیں جن کا الزام چوتھے معیار کے تحت قائم کردہ نظریات کو دیا جاتا ہے۔ تیسرے اور چوتھے معیار میں جو واحد فرق بتایا جا سکتا ہے، وہ صرف یہ کہ تیسرے معیار میں تجربہ یا مشاہدہ براہ راست طور پر خود اصل دعویٰ سے متعلق ہوتا ہے۔ جب کہ چوتھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page