برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، وہ یہ ہے کہ ناقابلِ مظاہرہ استنباط (non-demonstratable inference) بھی معقول (valid) ہے۔ اس کے بغیر سائنس کا پورا نظام اور روزمرہ کی انسانی زندگی دونوں مفلوج ہو جائیں گے۔ (صفحہ 204)۔ اس کے نزدیک سائنس حقیقی دنیا (real world) اور اعتقادی دنیا (believed world) دونوں پر مشتمل ہے اور سائنس میں جتنی زیادہ ترقی ہوتی ہے، اس میں اعتقادیات کا جزء بڑھتا جاتا ہے۔ سائنس میں کچھ چیزیں تو مشہود حقائق (observed facts) ہیں اور اس سے اوپر کی تمام چیزیں سائنسی مجردات (scientific abstractions) ہیں جو مشاہدہ کی بنیاد پر مستنبط کیے گئے ہیں۔ کلی تشکیک (universal scepticism) کا انکار نہیں۔ مگر کلی تشکیک کو اختیار کرنا بھی مشکل ہے: My Philosophical Development, p. 206 وہ لکھتا ہے: ”میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حسی حقائق (facts of sence) کو، اور اس کے ساتھ عمومی طور پر، سائنس کی سچائی کو ایک ایسی چیز کی حیثیت سے قبول کر لوں، جو فلسفی کے لیے ابتدائی مواد کا کام دے سکے۔ اگرچہ ان کا سچ ہونا قطعی یقینی (quite certain) نہیں ہے۔ یہ کسی اور چیز کے مقابلہ میں صرف ایک اونچا امکانی درجہ (higher degree of possibility) ہے جو فلسفیانہ قیاس کے لیے حاصل کی جاسکتی ہے۔“ My Philosophical Development, p. 207 اب ہم رسل کا ایک اقتباس نقل کریں گے، جس سے رسل کے خیالات کی وہ تصویر مکمل ہو جاتی ہے، جو ہم یہاں بنانا چاہتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader