برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو ہمیشہ سمجھا نہیں گیا ہے کہ نظری طبیعیات جو معلومات دیتی ہے، وہ کس قدر زیادہ مجرد (exceedingly abstract) ہیں ۔ وہ چند خاص بنیادی مساوات (equations) مقرر کرتی ہے جو اس کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ واقعات کے منطقی ڈھانچہ کو بیان کر سکے، جبکہ واقعات کی باطنی حالت بالکل نامعلوم (completely intrinsic character) ہو) unknown۔ نظری طبیعیات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم واقعات کی باطنی حالت کے بارے میں بول سکیں۔ طبیعیات جو کچھ ہمیں دیتی ہے وہ تمام تر صرف کچھ مخصوص مساوات (equations) ہیں جو ان کی تبدیلیوں کی مجرد خاصیتیں (abstract properties) بتاتی ہیں۔ مگر یہ کہ وہ کیا چیز ہے جو تبدیل ہوتی ہے اور کہاں سے تبدیل ہوتی ہے، اس کے بارے میں طبیعیات خاموش ہے۔“ My Philosophical Development, p. 17-18 رسل اپنی کتاب ”میرا فلسفیانہ ارتقا“ (My Philosophical Development) کے باب: (non-demonstratable inference) کو حسب ذیل الفاظ پر ختم کرتا ہے: “---there is no such claim to certainty as has too often and too uselessly, been made by rash philosophers.” (p. 207) یعنی اس قسم کا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم کو صداقت کا یقینی ذریعہ معلوم ہو گیا ہے جیسا کہ اکثر بے فائدہ طور پر جلد باز فلسفی کرتے ہیں۔ اس مطالعہ کے مطابق رسل کے لیے صرف دو راستے باقی رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ تشکیک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader