برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
کی پناہ گاہ میں چلا جائے، یا پھر مذہب کی صداقت کا اعتراف کرلے۔ کیونکہ جب صورت حال یہ ہے کہ ہم حقیقت کا صرف ظاہری ڈھانچہ سیکھ سکتے ہیں، اس کی اندرونی صداقت سے براہِ راست طور پر واقف ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے تو دو ہی صورتیں آدمی کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔ یا تو وہ اصرار کرے کہ وہ اسی وقت کسی بات کو مانے گا جب وہ آخری اور براہِ راست طور پر اس کے ذاتی علم میں آ جائے۔ چونکہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق اس قسم کا علم ناممکن ہے، اس لیے اسے یہ کہہ کر بیٹھ جانا چاہیے کہ ”میں کچھ نہیں جانتا“۔ مگر رسل اس پوزیشن کو قبول نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ ظاہری ڈھانچہ کی بنیاد پر اندرونی حقیقت کے بارے میں جو استنباط کیا جائے وہ بھی جائز علم کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ کہہ کر وہ مذہب کی عین سرحد کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کیونکہ مذہب کا کہنا بھی یہی ہے کہ انسان اپنے محدود حواس سے حقیقت کا آخری ادراک نہیں کر سکتا۔ البتہ ظاہرِ کائنات میں وہ جن چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے، ان سے یہ قیاس کر سکتا ہے کہ وہ کون سی حقیقت ہے جو اس کے پیچھے مستور ہے۔ مگر عجیب بات ہے رسل جیسا ذہین شخص تشکیک کا بھی انکار کرتا ہے اور مذہب کا بھی اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس طرح وہ خود اپنے مسلمات کے مطابق ایک کھلے ہوئے تضاد کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ رسل واضح طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ایسے عقیدے (belief) بھی صحیح (valid) ہو سکتے ہیں جن کا تجربہ (experience) نہ کیا گیا ہو۔ رسل خود بھی ایسے ”عقائد“ کو مانتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کے بیان کے مطابق، زمین کا قدیم ماضی، کائنات کے بعید ترین علاقے جن کا فلکیات میں مطالعہ کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ یہاں میں اس کے چند فقرے اس کے اپنے الفاظ میں نقل کروں گا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader