برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
only because the only alternative is special creatian, and that is unthinkable.” (Fred John Meldau: Why We Believe in Creation Not Evolution, 1959, p. 8) اسی لیے ارتقا کے مسئلہ کو دو اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ ارتقا، اور دوسرے سبب ارتقا۔ کہا جاتا ہے کہ نظریہ ارتقا تو یقینی ہے۔ البتہ سبب ارتقا ابھی تک لامعلوم ہے۔ اس تقسیم کو ہم زیادہ بہتر طور پر نظریہ ارتقا، دلیل ارتقا کے الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جب تک اسباب معلوم نہ ہوں ۔ یہ نظریہ یقینی کیسے ہو جائے گا۔ گویا نظریہ ارتقا ایک ایسا نظریہ ہے جس کی دلیل تو ابھی دریافت نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود وہ ارتقا پسند علما کے نزدیک ثابت شدہ نظریہ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ایسے کمزور نظریہ کے حوالہ سے یہ کہنا کہ اس نے مذہب کے استدلال کو برباد کر دیا ہے کس قدر بے بنیاد بات ہے۔ دوسرے یہ کہ بالفرض انواع حیات ارتقا کے عمل ہی کے تحت وجود میں آئی ہوں، جب بھی اس سے رسل کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ رسل کے دعویٰ کو صحیح ماننے کے لیے اس مفروضہ کو ماننا بھی ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسا ہی وجود ہو سکتا ہے جو یکا یک پھونک مار کر پیدا کر دیا کرے۔ اس کا طریق تخلیق یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لمبی مدت کے اندر کسی چیز کو وجود بخشے۔ حالانکہ نہ صرف یہ کہ اس مفروضہ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے، بلکہ اس سے خود خدا کی قدرت مطلقہ کی نفی بھی نہیں ہوتی۔ انسان ہمیشہ سے یہ مانتا رہا ہے کہ درخت اور انسان کو پیدا کرنے والا قادر مطلق خدا ہے۔ مگر یہ مشاہدہ اس کے اس عقیدہ کو متزلزل کرنے والا ثابت نہ ہو سکا کہ بچہ چالیس برس میں پورا انسان بنتا ہے اور درخت آدھی صدی اور ایک صدی میں مکمل ہوتا ہے۔ خدا کی قدرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader